منډيګک
افغان تاريخ

افغانستان یا خراسان؟

تحریر و تحقیق: لطیف جان بابئ ترجمہ: محمدلعل ترین

0 67

دور حاضر میں لکھی جانے والی اکثر تاریخی کتب {اردو،فارسی} یا دیگر تاریخ سے متعلق مواد میں باور کرایا جاتا ہے کہ افغانستان کا پرانا نام خراسان تھا اور یہ کہ اس ملک کو افغانستان کا نام پہلی مرتبہ احمدشاہ ابدالی رح کے دور 1747تا1772 میں دیا گیا، اس کالم میں اس بات کا قدیم تاریخی حوالہ جات کی روشنی میں مختصرا” جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیا درج بالا نظریہ کتنا مبنی بر حقیقت ہے، امید ہے کہ تاریخ کے طلبا و طالبات اور مطالعہ تاریخ کے شائقین کیلیے تسکین کا باعث ہوگا.
افغانستان کا سب سے قدیم نام آریانا تھا اور موجودہ افغانستان کی جغرافیائی حدود سے کئی مختلف حدود کا حامل تھا جسکے ساتھ خطے کے اور بھی علاقے منسلک تھے. گزرتے وقت کیساتھ آریانا کے کچھ علاقے خراسان کے نام سے مشہور ہوۓ، مگر نام خراسان کبھی بھی تمام کے تمام افغانستان کیلیے بحثیت ملک یا تمام افغانوں کی سیاسی و معاشرتی نمائندگی کے لیے استعمال نہیں ہوا. افغانستان پشتونوں کا وہ ملک ہے جو صدیوں سے ہند،چین، فارس اور ماوراوالنہر{وسطی ایشیا} کے درمیان آباد چلا آرہا ہے جسکی جغرافیائی حدود اور اشکال گھٹتے بڑھتے رہے ہیں اور اسی طرح مختلف تورایخ میں اسکے لیے نام بھی مختلف استعمال ہوتے رہے ہیں، مثلا پکتیکا، پشتونخواہ، گندھارا، رووہ اور افغانستان. افغانستان کا پہلا نقشہ ساکانیوں کے دور اور انکے جانشینوں کوشانیوں کے دور سے گہرا تعلق رکھتا ہے. افغانستان نام اس ملک کے لیے احمد شاۂ ابدالی رح سے بہت پہلے 1321 عیسوی میں سیفی ہیروی نے مشرقی علاقوں دریاۓ آمو تک کیلیے استعمال کیا ہے. عہد تیموریہ میں افغانستان سیاسی حوالے سے خراسان کا ایک حصہ رہا جبکہ بابر نے جب کابل کو 1494 میں فتح کیا تو اس دور کے مورخین نے جنوب شرقی علاقوں موجودہ حسن ابدال پنجاب پاکستان تک کیلیے رووہ کا نام استعمال کیا ہے . مورخ قدرت اللہ ہداد کے مطابق افغانستان کا نام نہ آریا تھا نا ہی خراسان.
تاریخ طبری کے مطابق سیستان خراسان سے رقبے اور آبادی دونوں میں بڑا ہے، نیز سندھ اور بلخ کے درمیانی علاقے کو سیستان کہا ہے. قبل مسیح کے مورخ ہیروٹوڈس کے مطابق "ایشیا کا اکثر حصہ ساکیانیوں کے زیر نگین ہے یعنی کابل،بلخ، زابل اور ساکستان یا سیستان ساکیانیوں سے ہی موسوم ہے. افغانوں کے لیے ہندو مذہبی کتاب اوستا میں ساکان جبکہ ویدا کتاب کے ترانوں میں پکتان کے الفاظ استعمال ہوۓ ہیں. ان کتابوں میں جن تین دریاوں پر آباد آبادیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ دریاۓ کابل ھلمند اور آمو دریا پر آبادیوں کی طرف اشارہ ہے. ان کتابوں میں باختر بلخ پخدی پشتو الفاظ جبکہ ساکان ساکانوں کی طرف اشارہ ہے. جیسے پہلے ذکر کیاگیا ہے کہ افغانستان نام احمد شاہ ابدالی رح سے بہت پہلے 1321ع میں افغانستان کے پہلے فلسفی مورخ ہیروی نے اپنی تاریخنامۂ ہرات میں استعمال کیا ہے جبکہ لفظ پشتونخواہ اسکے بعد آخوند درویزہ نے مغل دور میں اس علاقے کیلیے استعمال کیا ہے. لہذا ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی دور میں لفظ خراسان افغانستان کے لئے بحثیت مجموعی استعمال ہوا اور نا ہی لفظ افغانستان محض احمد شاہی دور کی پیداوار ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Protected contents!