منډيګک
افغان تاريخ

ایک درویش صفت مفکر….سید جمال الدین افغانی

تحریر،تحقیق:۔ محمد عدنان خان

0 34

اس میں کوئ شک نہیں کہ سید جمال الدین افغانی کی عاقلانہ تدبیروں اور حمایت سے کئ لوگ افغانستان کے مستقل حکمران بنے۔ان کی اپنی کوئ سیاسی جماعت نہیں تھی۔نہ وہ کسی سیاسی جماعت کے رکن تھے۔مسلم دنیا کی ہر دل عزیز شخصیت تھے۔مرتے وقت اپنا کوئ ذاتی مکان۔زرعی زمین۔بنک بیلنس تک نہیں تھا۔وہ ایک ایسے شخص تھے جو روپیہ جمع کرنا بالکل نہیں جانتے تھے اور افلاس سے ڈرتے نہیں تھے۔پھر بھی جہاں گئے وہاں دلوں میں انقلاب پیدا کرتے گئے۔آج کے علماء۔مفکرین۔اور رہنماوں اور سربراہ ہان مملکت اور ارباب اقتدار کو سید جمال الدین کی جدوجہد زندگی اور افکار سے سیکھنا چاہیئے۔

۔اس کے باوجود۔ہندوستان۔افغانستان۔ایران ۔ترکی کی حکومتوں کی جانب سے انہیں مسلسل عہدوں کی پیشکش کی جاتی رہی ۔عظیم مفکر سید جمال الدین افغانی اردو،فارسی،عربی،ترکی،فرانسیسی،انگلش،اور روسی زبان پر کامل مہارت رکھتے تھے۔فلسفہ قدیم اور تاریخ اسلام پر انہیں مکمل عبور حاصل تھا۔ان کی زندگی کا مقصد یہ تھا کہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا ہو۔تمام اسلامی ممالک ایک زنجیر مسلسل بن جائیں۔

سید جمال الدین افغانی 1839ء میں افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ایک قصبہ اسعد آباد میں پیدا ہوئے۔صرف 18 سال کی عمر میں مختلف علوم۔۔۔۔صرف نحو۔تاریخ۔تفسیر۔فقہ۔اصول فقہ۔ علم کلام۔ تصوف۔ منطق۔ فلسفہ۔ طبیعات۔ الہیات۔ حساب۔ ہندسہ۔ طب۔ جبر، مقابلہ۔ علم تشریح میں مہارت حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ علوم ریاضی کویورپ کےطریقہ پر پڑھا اور سیکھا۔

1857ء میں ہندوستان سے ہوتے ہوئے حجاز مقدس گئے۔ہندوستان میں قیام کے دوران انگریز حکومت نے انہیں سربراہ مملکت کا درجہ دیا۔1869ء میں حج کیا۔15 رمضان 1871ء کو قسطنطنیہ(ترکی ) کی یونیورسٹی دارالفنون میں صنعت و حرفت پر ایک لیکچر دیا۔لیکچر شروع ہونے سے پہلے ہزاروں افراد دارالفنون کی جانب دوڑتے ہوئےنظر آئے۔کیا عجیب سماع تھا۔اس یونیورسٹی کے باہر کے میدان۔سڑکیں۔باغات ہجوم سے بھر گئے۔اس مجمع میں علماء۔ارکان دولت۔وزراء۔امراء موجود تھے۔اور ایک کرسی پر وزیراعظم سلطنت قسطنطنیہ جلوہ افروز تھا۔اخبارات کے ایڈیٹرز اور نامہ نگاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔سید جمال الدین افغانی نے جب اپنا لیکچر شروع کیا تو حاضرین پر مکمل سکوت طاری ہوگیا۔انہوں نے نہایت فصیح و بلیغ خطاب کیا۔

1888ء میں انہوں نے برطانیہ میں قیام کے دوران لارڈ چرچل اور لارڈ سالسبری سے ملاقات کی۔اس دوران انہیں وائسرائے ہند کا ایڈوائیزر بنانے کی پیشکش کی گئ جو انہوں نے ٹھکرادی۔

ایران میں قیام کے دوران شاہ ایران نے انہیں ایران کا وزیر دفاع مقرر کیا اور یہ وعدہ کیا کہ انہیں وزیر اعظم کے عہدے تک ترقی دی جائے گی۔1889ء میں جمال الدین ۔افغانی نے ترکی۔ایران۔افغانستان۔روس۔برطانیہ اور فرانس کے سیاسی۔معاشی حالات پر کالم لکھے جو یورپ کے اخبارات میں چھپے۔

آخری عمر انہوں نے قسطنطنیہ کے بادشاہ کی خواہش پر قسطنطنیہ ہی میں گزاری۔قسطنطنیہ کے محلہ نشان طاش میں واقع محل میں گزاری۔ جو سلطان نے انہیں عنایت کیا تھا۔سید جمال الدین افغانی کو اس دور میں 75پونڈ(1125 روپیہ ہندوستانی ) حکومت کی جانب سے وظیفہ ملتا تھا۔آپ نے 9 مارچ 1897 کوقسطنطنیہ(موجودہ ترکی ) میں وفات پائ۔ان کے جنازے میں امراء۔علماء۔وزراء۔ارکان دولت اور ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔یورپ اور ایشیا کا کوئ ایسا اخبار نہیں تھا جس نے ان کی وفات پر افسوس کا اظہار نا کیا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Protected contents!