منډيګک
افغان تاريخ

پختون قوم کی اصل نسل

1 1,084

پختون قوم کی اصل نسل کے بارے میں مختلف قصے مشہور ہیں‘ان میں ایک نظریہ…
"پختونوں کے جدِ امجد قیس عبدالرشید کے بارے میں جوھم سنتے آ رہے ہیں، واقعی یہ مَن گَھڑت کہانی ہے ؟؟؟؟ بلکہ اسے جھوٹ سے اپنے ایمان کا نقصان جو حضور پر لوگ بولے۔ جمعتہ الوداع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اسے جھوٹ کے بارے میں۔
پختون بنی اسرائیل ہیں ‘‘ کا بھی ہے ‘اس قصے کے بانی مولوی رحمت اللہ ہروی کی ’’تاریخ خان جہانی عرف مخزن افغانی‘‘ نامی کتاب ہے۔
سعد اللہ جان برق نے اپنی کتاب’’پشتون اور نسلیات ہندوکش‘‘ میں پختون قوم کی اصل کے بارے میں مختلف نظریات کا تفصیلی اور معلوماتی تجزیہ کیا ہے جو حقیقت سے قریب بھی لگتا ہے ‘قارئین کی دلچسپی اور حقیقت تک پہنچنے کے لئے یہ تجزےئے پیش ہیں۔ سب سے پہلے قیس عبدالرشید کا افسانہ۔غالباً گوئرنگ ( اصل میں یہ الفاظ ہٹلر کے وزیر اطلاعات گوئبلز سے منسوب ہیں)نے کہا تھا کہ جھوٹ اگر مسلسل اور تواتر سے بولا جائے تو ایک دن وہ سچ بن جاتا ہے ‘پختونوں کی اصل نسل کے سلسلے میں بھی قیس عبدالرشید کا افسانہ ایک ایسا ہی جھوٹ ہے جو اصل میں بنی اسرائیل نظرےئے کی ایک شاخ یا پیوند ہے۔

سعد اللہ جان برق کی کتاب: پشتون اور نسلیات ہندو کش، بشریات میں نسل کے تصور کو ایک نئی وسعت میں دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی لیے یہ کتاب ان موضوعات سے دلچسپی رکھنے لیے چیلنج ہیں۔

یہ کہانی کچھ یوں ہے کہ ۔

’’پشتون اصل میں بنی اسرائیل تو تھے ہی جو یہاں موجود ہ پختونخوا اور افغانستان میں رہتے تھے جب اسلام کا ظہور ہوا تو خالد بن ولید ؓ جو اسرائیلی نسل سے تعلق رکھتے تھے نے یہاں کے پشتونوں یا بنی اسرائیل کو پیغام بھیجا کہ تم یہاں آجاؤ‘یہ لوگ قیس نامی شخص کی سربراہی میں وہاں گئے ‘کوئی اس جرگے کی تعداد چالیس بتاتا ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اس وفد یا جرگے میں سترافراد تھے‘یہ وہاں گئے ‘نبی کریمؐ کے دست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے پھر چند لڑائیوں میں شامل ہوئے۔ان کی بہادری کو دیکھ کر حضور پاک ؐنے ان کو ’’بطان‘‘کا خطاب دیا جو کشتی کے نچلے تختے یا سینے کو کہتے ہیں(جس طرح کشتی کا سینہ مضبوط ہوتا ہے اور پانی کا مقابلہ کرتا ہے ۔
اسی طرح یہ لوگ بھی بہادر اور اسلام سے محبت کرنے والے ہوں گے )اور قیس کا نام بدل کر عبدالرشید رکھ دیا کیونکہ قیس عبرانی لفظ تھا پھر خالد بن ولید نے قیس عبدالرشید سے اپنی بیٹی بیاہ دی قیس عبدالرشید کے خالد بن ولید کی بیٹی سے تین بیٹے پیدا ہوئے جو پختونوں کے تمام قبائل کے اجداد ہیں‘‘

یہ تو اس قصے کا اختصار تھا اب اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ تو اس قصے میں یہ ہے کہ حضور پاک ؐ کی زندگی کا لمحہ لمحہ ریکارڈ پر ہے ان کے ہر قول و فعل کا تذکرہ کسی نہ کسی صورت میں منظر عام پر ہے لیکن اتنے بڑے واقعے کا اسلامی تاریخ ‘روایات اور احادیث میں کہیں بھی ذکر نہیں ہوا ‘ایسے کسی واقعے کے بارے میں ایک لفظ بھی کہیں موجود نہیں ہے۔
اسی بات کو لے کر کچھ لوگوں نے بعد میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک واقعہ جس کا ذکر قران میں بھی ہوا ہے ‘جنات کے بارے میں جو بیان ہوا ہے ‘وہی جنات یہ لوگ تھے۔اس حد تک تو ہم مان لیتے ہیں کہ واقعی لفظ جنات کا اطلاق انسانوں کے ہی ایک گروہ پر ہوتا ہے تفصیلی ذکر آگے آئے گالیکن قرآن پاک کی سورہ جن میں جنات کا واقعہ ہے وہ قطعی الگ ہے اس کے دلائل و قرائن بھی اسی واقعے کے اندر موجود ہیں۔اس واقعے کا اطلاق قیس عبدالرشید اور اس کے ساتھیوں پر نہیں ہو سکتا کیونکہ اس واقعے میں جنات نے کہا کہ ’’ انہوں نے عجیب قرآن سنا ہے جو بھلائی کی طرف ہدایت دیتا ہے بس ہم ایمان لے آئے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرائیں گے‘‘۔قرآن کو غور سے سننا اور اس سے متاثر ہوکر ایمان لانا صرف ان لوگوں کے لئے ممکن ہو سکتا ہے جو عربی کو مکمل طور پر سمجھتے ہوں بلکہ قرآن کی عربی کو سمجھتے ہوں جبکہ قیس عبدالرشید کے بارے میں اس تذکرے کے اندر کہا گیا ہے کہ خالد بن ولید پشتو جانتے تھے اور وہ اس وفد کی ترجمانی کرتے تھے اگر یہ لوگ عام بات چیت بھی ترجمان کے ذریعے کرتے تھے تو یہ کیسے کہہ سکتے تھے کہ ہم نے قرآن کو غور اور توجہ سے سنا اور ہم نے قرآن کو عجیب یعنی محاسن سے بھرا پایا ۔اب یہ تحقیق کرنا ہمارا کام نہیں کہ یہ گروہ کن لوگوں کا تھا ۔

قیس عبدالرشید کا منسوب مزار، تخت سلیمان، درازندہ،قبائلی علاقہ ملحقہ ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان

عام نظرےئے کے مطابق ماورائی مخلوق یعنی جن تھے یا عربوں ہی کا کوئی صحرائی گروہ تھا لیکن کم از کم پختون وفد کے لوگ نہیں تھے کیونکہ ان کے لئے قرآن کی زبان سمجھنا اور پھر تمام تر خوبیوں اور محاسن کے ساتھ سمجھنا ممکن ہی نہ تھا دوسرے یہ کہ جنات کے یہ لوگ حضور ؐ کے ساتھ تنہائی میں اور رات کے اندھیرے میں ملے تھے ‘جہاں انہوں نے کھانا پکانے کے لئے آگ بھی جلائی تھی ‘جبکہ قیس کا وفد ان سے کھلے عام ملا تھا اور کئی لڑائیوں میں حصہ لینے کا مطلب ہے کہ کئی دن تک وہاں رہا تھا پھر حضور ؐ نے ان کو’’ بطان‘‘ کا خطاب دیا اور خالد بن ولیدؓ نے قیس سے اپنی صاحبزادی بیاہ دی ‘ان میں کوئی بھی کام پردے میں ہونے والا نہیں ہے۔دراصل اس مقدس نظرےئے کے طرفدار اپنی بات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے جب کوئی بے پر کی اڑاتے ہیں تو اپنی ہی کہی ہوئی دوسری باتوں کو بھول جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر یہ بھی ایک طرفہ تماشا ہے کہ خالد بن ولیدؓ اسرائیلی تھے اور انہوں نے اپنی اس قوم کے وفد کو بلایا تھا اور وہ پشتو بول سکتے تھے ‘کمال ہے خالد بن ولید ؓ خالص عربوں کے ایک قبیلے ’’بنی مخزوم‘‘ میں سے تھے جس کا یہودیوں سے دور کا تعلق بھی نہیں تھا اوراگر وہ اسرائیلی تھے تو ان کو پشتو کیسے آتی تھی ؟عربوں کے درمیان رہنے والے یہودیوں کی زبان تو عبرانی تھی ‘پشتو تو ان پہاڑی لوگوں کی زبان ہے۔حضرت خالدؓ بن ولید نے پشتو کیسے سیکھی ؟ لفظ بطان بھی اس افسانے کا راز فاش کرتا ہے ‘بطان کشتی کے اس حصے کو کہتے ہیں جو پانی میں ہوتا ہے یعنی سینہ یا پیند ا‘ بطان کا تعلق بطن‘باطن اور بط وغیرہ سے ہے ‘ظاہر ہے کہ جب کوئی کسی کوخطاب دیتا ہے تو وہ کسی ایسی چیز کا دیتا ہے جو دونوں کی جانی پہچانی ہولیکن یہاں حضور پاک ؐ اور عرب ریگستانی تھے اور قیس کے لوگ پہاڑی ‘دونوں کے لئے کشتی یا اس کے حصے نامانوس اور اجنبی ہیں اور کیا حضور پاکؐ جیسی فصیح و بلیغ ہستی سے ایسا غیر فصیح و غیر بلیغ خطاب ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ تو ایسا ہے جیسے کوئی کسی کوہستانی اور ریگستانی کو مچھلی ‘کچھوے یا بھینس یا کسی برفانی مخلوق کا خطاب دے ڈالے۔ویسے بھی پٹان‘پکت‘پکتویس وغیرہ ظہو راسلام سے بہت پہلے بھی مروج رہے ہیں اور قبل مسیح کے یونانیوں نے اس کا ذکرکیاہے ۔ (دیکھئے ہیرو ڈوٹس‘زینوفین وغیرہ)اوربھی بہت سارے سوالات ہیں مثلاً اس وقت عربوں اور افغانستان کے درمیان ایک مضبوط اور اسلام دشمن پارسی حکو مت قائم تھی جس کے ایک بادشاہ خسرو پرویز نے حضور پاکؐ کا نامہ مبارک تک پھاڑ ڈالاتھا ‘اس سے گزر کر اسی کے زیر انتظام علاقے کے کسی وفد کا عرب جانا بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن تھا ۔اب آتے ہیں قیس عبدالرشید کے نام کی طرف‘ کہتے ہیں اس کا اپنا نام قیس تھا لیکن حضور پاکؐ نے یہ فرمایا کہ یہ عبرانی نام ہے اس لئے آج سے تمہارا نام عبدالرشید ہوگا‘اس کہانی کے مصنف کا عربی اور عبرانی دونوں سے ناواقف ہونا اسی بات سے ظاہر ہے۔

قیس عبرانی نہیں بلکہ عر بی نام ہے اور عربوں میں اکثر لوگوں کا ہوتا تھا مثلاً ایک عظیم شاعر امراؤ القیس تھا ‘قیس عامری کا نام لے لیجےئے‘ خود قریش کے جد امجد کا نام قصی یا قسی تھا اور ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ حضور ؐ نے کسی عبرانی نام کو بدلا ہو ۔تمام صحابہ ؓاور مسلمان ہونے والے اکابرین کے نام وہی رہے تھے جو مسلمان ہونے سے پہلے تھے لیکن سب سے زیادہ حیران کن نام عبدالرشید ہے کیونکہ عربوں میں نہ اس زمانے میں اور نہ آج کے زمانے میں ایسے نام مروّج ہیں ۔ عبدالرشید‘ عبدالحمید‘عبدالغفور‘عبدالکریم اورعبدالمالک جیسے یہ نام ہمیشہ غیر عرب یعنی عجمیوں میں مرّوج رہے ہیں خصوصاً ہمارے ان علاقوں میں جو آج کل پاکستان کا حصہ ہیں اس قسم کے نام کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔حضورؐ کے زمانے میں اس نمونے کا دوسرا نام ہمیں دکھائی نہیں دیتا سوائے عبداللہ کے ایسا لگتا ہے کہ یہ نام کسی ایسے مولوی صاحب نے رکھا ہو جس کا تعلق ہمارے علاقے سے ہو۔
اوپر سے ان کے ہاںیہ عقیدہ کہ نیک ارادے سے جھوٹ بولنا کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ ثواب ہے اور پشتونوں کا یہ شجرہ بھی غالباًایسے ہی صاحبان کا نتیجہ فکر ہے۔ایک اور گھمبیر مسئلہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ قیس تو اپنا نام عبدالرشید سے بدل کر آگئے حالانکہ قیس نام پختونوں میں کبھی مروج نہیں رہا ہے لیکن اب جبکہ اس کے گھر میں خالد بن ولیدؓ کی صاحبزادی تھی ‘انہوں نے اپنے بیٹوں کے نام سڑبن (Sadaban) ‘غرغشت یا گر گشت (Gargasht) اور بیٹ(Bet) رکھے ‘جس کا ادا کرنا کسی عرب کے لئے ممکن ہی نہیں نہ جانے ماں بے چاری ان کو پکارتے ہو ئے کتنی دشواری محسوس کرتی ہوگی۔

1 تبصرہ
  1. ساجد خان کہتے ہیں

    السلام علیکم محترم جناب مجھے آپ کی یہ کتاب چاہیئے ہے اگر پی ڈی ایف میں ہو تو 03335050775 پہ اور اگر پی ڈی ایف میں موجود نہیں تو ساجد خان حویلیاں محلہ ٹینکی نزد مسجد عمر رضی اللہ حویلیاں پہ ارسال فرما دیں۔۔۔شکریہ جناب سلامت رہیں۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Protected contents!