منډيګک
افغان تاريخ

سدوزئی خاندان کا چشم و چراغ… نواب شجاع خان

احمد رضوان

0 354

ملتان میں سدوزئی خاندان کی حکومت کا آغاز احمد شاہ ابدالی کے تخت کابل پر براجمان ہونے سے پہلے ہو چکا تھا۔ تخت دہلی سے ایک دوردراز صوبہ ہونے کی وجہ سے ملتان 1752ء میں افغان بادشاہوں سے وابستگی رکھنے والا صوبہ بن گیا تھا، لیکن یہ وابستگی برائے نام تھی۔

ملتان پر زیادہ تر پٹھان نسل کے گورنر حکمران رہے‘ یہ وہی پٹھان خاندان تھے جنہوں نے گاہے بگاہے افغانستان سے بھاگ کر ملتان میں پناہ لی تھی۔ ملتانی پٹھان کہلوانے والے ان خاندانوں نے آہستہ آہستہ اتنی طاقت پیدا کر لی تھی کہ صوبہ ملتان ان کی دسترس میں آ گیا تھا‘ یہ ایک ایسی بادشاہت تھی، جو عملی اعتبار سے ہر طرح خود مختار تھی۔ یوں تو ملتان میں سولہویں اور سترہویں صدی کے دوران افغانستان سے بہت سے پٹھان خاندان آ کر پناہ گزین ہوئے لیکن ان خاندانوں میں سدوزئی خاندان اس لئے نمایاں حیثیت کا حامل تھا کہ اسی خاندان میں احمدشاہ ابدالی جیسا سپہ سالار پیدا ہوا‘ دوسرا اس خاندان نے ملتان کو سات حاکم دیئے۔

ملتان میں سدوزئی خاندان کے اقتدار کا زمانہ 50 سال سے زائد بنتا ہے۔ ملتان کا یہ سدوزئی خاندان 1652ء میں مغل حکمران اورنگزیب عالمگیر کے ہمراہ ملتان آیا‘ اس وقت اس خاندان کا سربراہ شاہ حسین سدوزئی تھا‘ شاہ حسین سدوزئی کے بعد سدوزئی خاندان کا سربراہ نواب عابد خان کو بنایا گیا، نواب عابد خان کی وفات پر ملتان کے سدوزئی خاندان میں سرداری پر جھگڑا ہو گیا لیکن پھر اس خاندان نے نواب زاہد خان کو اپنا سردار تسلیم کر لیا۔ نواب زاہد خان جنہیں نواب زکریا خان، گورنر لاہور نے ملتان میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، اپنی قوم پر بڑا مہربان رہا۔ نواب زاہد خان کے لاہور دربار کے ساتھ دہلی دربار سے بھی تعلقات تھے‘ نواب زاہد خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے وزیر دہلی قمر الدین اور معروف شاعر سراج الدین خان آرزو کے توسط سے ملتان کی نظامت کا پروانہ حاصل کیا۔

نواب زاہد خان کو ابھی اقتدار سنبھالے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا کہ خواجہ اسحاق کابل سے ملتان کی صوبیداری کا پروانہ لے کر آ گیا، لیکن نواب زاہد خان جلد ہی ملتان کی نظامت پر بحال ہو گیا‘ کچھ عرصہ بعد نواب زکریا خان نے نواب عزیز خان سدوزئی کو ملتان کا گورنر بنا دیا جس پر نواب زاہد خان اور نواب عزیز خان میں جنگ چھڑ گئی‘ مغل فوج نے نواب عزیز خان کا ساتھ دیا لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ نواب زاہد خان کا بڑا بیٹا نواب شاکر خان بھی اس جنگ میں باپ کے خلاف نبردآزما تھا‘ جنگ میں نواب زاہد خان کو شکست ہوئی اور وہ اسی غم میں مر گیا۔ نواب زاہد خان جسے ساری عمر عیش و عشرت اور سرود سے نفرت رہی، ملتان میں سدوزئی اقتدار کا بنیاد گزار تھا‘ مثنوی مولانا روم اور امام غزالی کی ’’کیمیائے سعادت‘‘ ہر وقت اس کے مطالعہ میں رہتی تھی۔

ہماری آج کی گفتگو نواب زاہد خان کے چھوٹے صاحبزادے نواب شجاع خان کے بارے میں ہے، جس نے اپنے باپ کے بعد ملتان میں سدوزئی خاندان کے اقتدار کو ناصرف مضبوط بنیاد فراہم کی بلکہ اپنے خاندان کو ملتان کا اہم ترین خاندان بنا دیا۔ نواب شجاع خان کا تعلق پٹھانوں کے معروف سدوزئی قبیلہ کی شاخ موریہ خیل معروف بہ خان خیل سے تھا‘ سدوزئی درانیوں یعنی ابدالیوں کی سربرآوردہ شاخ ہے۔ نواب شجاع خان، نواب زاہد خان کے دوسرے بیٹے تھے‘ سدوزئی خاندان کی صدری روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نواب شجاع خان کی پیدائش ملتان میں ہی ہوئی۔

نواب شجاع خان اور احمد شاہ ابدالی قریباً ہم عمر تھے۔ جب ملتان میں احمد شاہ ابدالی کی والدہ زرغونہ کا انتقال ہوا تو احمد شاہ کو نواب زاہد خان کی اہلیہ جو نومولود کی رشتہ میں خالہ تھی‘ نے اپنی تولیت میں لے لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خاندانی رقابتوں کے باوجود احمد شاہ ہمیشہ نواب شجاع خان پر مہربان رہا۔ نواب شجاع خان کے والد نواب زاہد خان نے جب اپنی جائیداد تقسیم کی تو نواب شاکر خان کا تعمیر کردہ شیش محل اور جلال الدین سدوزئی کا وہ مکان جس میں احمد شاہ ابدالی پیدا ہوا تھا، نواب شجاع خان کے حصے میں آیا۔ نواب شجاع خان سے پہلے ان کے والد نواب زاہد خان اور بڑے بھائی نواب شاکر خان بھی ملتان کے ناظم رہے، لیکن یہ دونوں خودمختار حکمران نہ تھے بلکہ لاہور میں مغل گورنر کے ماتحت تھے۔ ملتان کے سدوزئی خاندان کے حالات و واقعات پر مبنی کتاب ’’تذکرۃ الملوک‘‘ جو شہزادہ علی محمد خان کی فارسی تصنیف ہے۔

اس خاندان کے مفصل حالات سامنے لاتی ہے۔ ’’تذکرۃ الملوک‘‘ کے مطابق ’’نواب زاہد خان کے بڑے بیٹے شاکر خان کی وفات کے بعد سر داری اس کے بیٹے حسن خان کو ملی لیکن وہ جوانی میں ہی وفات پا گیا تو سرداری نواب شجاع خان کے حصے میں آئی۔ شجاع خان نے آخری عمر میں اپنے والد کی بہت زیادہ خدمت کی‘ اس لئے انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی نواب شجاع خان کے حوالے کر دی، یوں شجاع خان باپ کی تمام دولت کا وارث بن گیا۔ اس نے باپ کی وفات کے بعد بہت سے مواضعات اور دیگر زرعی اراضیات بھی خرید لیں، اس طرح نواب شجاع خان صوبہ ملتان کی قابل کاشت اراضیات کے ایک چوتھائی حصے کا مالک بن بیٹھا اور مال و دولت میں صوبے دار کا ہم پلہ ہو گیا۔

نواب شجاع خان اعلیٰ درجے کے منتظم تھے، انہوں نے زراعت سے کافی آمدنی پیدا کر لی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ والد کی وفات کے پندرہ سال بعد تک اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، اس تمام عرصہ میں اس نے اپنی جائیداد کو ترقی دینے‘ وسائل آمدنی اور ساز و سامان جمع کرنے کے سوا کسی اور کام پر توجہ نہ دی، یوں وہ بہت دولت مند ہو گئے۔ اس کے بڑے بھائی وفات پا چکے تھے، بھتیجا سردار بنا تو وہ بھی فوت ہو گیا لہٰذا نواب شجاع خان کو سدوزئی خاندان نے اپنا سردار تسلیم کر لیا، اب وہ صوبے داری کا خواہش مند تھا، لہذا اس نے فتح اللہ خان سدوزئی وزیر کی استدعا پر ملتان کی صوبیداری کا پٹہ 1763ء میں حاصل کر لیا۔ نواب شجاع خان صوبیداری کا پروانہ لے کر صوبے دار کے پاس گیا، تو اس نے ملتان کے افغانوں کو شجاع خان کی امداد پر کمر بستہ دیکھا تو چپکے سے معزولی کو تسلیم کرکے چلا گیا۔ نواب شجاع خان ایک سخت گیر حاکم ثابت ہوا‘ اس نے صوبہ ملتان کا انتظام بھی اپنے مواضعات کی طرز پر کرنا شروع کر دیا۔ اس کی طبیعت میں مصلحت کیشی کا ذرا بھی رجحان نہ تھا۔ اس لئے ہر شخص اس سے شاکی رہنے لگا‘‘۔

نواب شجاع خان نے عنان حکومت سنبھالتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ عظیم خان نامی ڈاکو جو 300 سواروں کے ساتھ اس علاقے میں لوٹ مار کرتا پھرتا تھا‘ کو لشکر جرار بھیج کر گرفتار کرایا اور اسے اپنے سامنے اتنا پٹوایا کہ وہ مر گیا‘ اس طرح پورے علاقے میں نواب کا رعب بیٹھ گیا۔ نواب شجاع خان نے اقتدار میں آتے ہی خانقاہوں کے تیل چراغ کے لئے مواضعات بحال کئے اور بعض رسوم جو غیرشرعی تھیں، انہیں ختم کیا۔ ان دنوں کابل کے درانی امراء میں سے جو بھی دربار شاہی میں رسوخ پاتا صوبہ ملتان میں جاگیر پانے کا حکم نامہ حاصل کر لیتا تھا۔

جاگیروں کے حکم ناموں کی وجہ سے ملتان کی آمدنی مستحکم نہ رہی، چنانچہ اصلاحات کے نام پر نواب شجاع خان نے امراء کی تمام جاگیریں منسوخ کرا دیں، اس پر بہت سے درانی امراء ناراض ہو گئے۔ کابل دربار کے درانی امراء نے صوبہ ملتان سدوزئیوں کے قبضے میں جاتا اپنے حق میں اچھا نہ سمجھا۔ علی محمد خوگانی جو نواب شجاع خان سے پہلے ملتان کا صوبے دار تھا، درانی امراء کے تمام مطالبات پورے کرتا تھا لیکن شجاع خان بادشاہ سے اپنی قرابت داری کی وجہ سے کسی کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ یوں عظیم خان ملے زئی جو ایک آزمودہ کار فوجی افسر تھا شجاع خان سے ناراض ہو کر علی محمد خوگانی کے پاس خیر پور چلا گیا‘ اس کے ساتھ اس کے چھ سو پیادہ سپاہی بھی تھے، ان تجربہ کار سپاہیوں کے جانے سے ملتان کا امن خطرے میں پڑ گیا۔

اس صورتحال میں خوگانی نے ملتان کی صوبے داری دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی، اس دوران درانی امراء نے بھی بادشاہ کے کان بھرے۔ یوں ملتان دوبارہ نواب علی محمد خوگانی کے پاس آ گیا‘ علی محمد خوگانی خیر پور سے عظیم خان ملے زئی اور اس کے سپاہیوں کی معیت میں ملتان آیا تو جنگ چھڑ گئی۔ نواب شجاع خان نے دو تین ہزار سواروں‘ افغانوں‘ ملازموں اور اپنے بھتیجے کو لے کر شہر سے دو تین کوس باہر نکل کر جنگ کی تیاری کی جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے تو توپوں اور بندوقوں کی گھن گرج نے میدان جنگ گرم کر دیا لیکن المیہ یہ ہوا کہ نواب شجاع خان کے ساتھی افغانوں نے بغیر لڑے پشت دکھائی اور میدان سے بھاگ گئے، یوں نواب شجاع خان کو شکست ہو گئی۔

نواب شجاع خان اس وقت پالکی نشین تھا، تیز رفتار سواری منگوا کر فرار ہونا چاہا لیکن وہ میسر نہ آئی مجبوراً معمولی گھوڑے پر سوار ہوا‘ اس دوران علی محمد خوگانی کے بیٹے مصطفے خان نے نواب شجاع خان کی پشت پر تلوار ماری لیکن کارگر نہ ہوئی اور تھوڑی سی قمیض پھٹ گئی۔ علی محمد خوگانی کے بیٹے نے پہچان لیا کہ یہ شجاع خان ہے تو ہاتھ روک لیا‘ اسی دوران علی محمد خوگانی آ گیا‘ اس نے شجاع خان کو پالکی میں سوار کرایا اور قلعہ میں قید کر دیا‘ یوں علی محمد خوگانی دوبارہ ملتان کا صوبے دار بن گیا۔

نواب شجاع خان کی گرفتاری پر اس کا بیٹا نواب مظفر خان احمد شاہ ابدالی کے پاس گیا اور اپنے والد کی گرفتاری اور قید کا حال عرض کرکے داد خواہ ہوا‘ جس پر احمد شاہ ابدالی لاہور سے ہوتا ہوا ملتان آیا تو علی محمد خوگانی کو نشان عبرت بنا دیا۔ احمد شاہ ابدالی نے نواب شجاع خان کو صوبے دار کے عہدے پر بحال کر دیا۔ ان دنوں صوبیداری کو ثبات نہیں تھا، آئے روز نظامتیں تبدیل ہوتی تھیں چنانچہ 1765ء میں حاجی شریف سدوزئی دربار کابل سے حاکم ملتان نامزد ہو کر آ گیا اور چارج لے لیا۔ نواب شجاع خان نے مقابلہ کیا مگر شکست کھائی اور یوں وہ ملتان سے کوٹ شجاع آباد منتقل ہو گئے۔

نواب شجاع خان کی شکست کے بعد حاجی شریف خان اطمینان سے قلعہ میں داخل ہوا اور مثمن برج جو خواجہ حسین خان کا بنوایا ہوا تھا، اس میں قیام کیا۔ حاجی شریف خان کو ملتان کی نظامت پر مقرر ہوئے تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ دیوان دھرم جس نامی ایک ساہوکار کی بابت یہ خبر گرم ہوئی کہ وہ احمد شاہ ابدالی کے ہاں جا رہا ہے، نواب شجاع خان نے اسے بلا کر مشورہ دیا کہ بادشاہ سے اپنے لیے یا میرے لیے صوبہ داری کی درخواست کرے، مگر دھرم جس نے اپنی تقرری کا فرمان شاہی حاصل کر لیا۔ تقدیر کی نیرنگیاں دیکھئے کہ بے وفا بھی بے وفائی کا شکار ہوا‘ دھرم جس نے کابل سے واپسی پر اپنے معاون شریف بیگ تکلو کو فرمان شاہی دے کر حاجی شریف سدوزئی کے پاس بھیجا‘ شریف بیگ تکلو حاجی شریف سدوزئی کو اقتدار سے برطرف کرنے میں تو کامیاب ہو گیا مگر اپنے آقا دھرم جس سے منحرف ہو کر خود حاکم بن بیٹھا چونکہ حاجی شریف خان سدوزئی کی نظامت کا عرصہ بہت قلیل تھا۔

اس لیے اس کی نظامت کے حوالے سے ملتان کے شہریوں میں یہ محاورہ زبان زد عام ہو گیا ’’حاجی شریف نہ ربیع نہ خریف‘‘۔ شریف بیگ نے اچھی حکومت کی اس نے رعایا کو ہر طرح سے مطمئن کر دیا چونکہ اس نے دربار کابل سے بے وفائی کی تھی، اس لئے اس نے اپنے اقتدار کی مضبوطی کیلئے سکھوں سے امداد حاصل کی، لیکن اس سے قبل کہ سکھوں کی بھنگی مثل پہنچتی احمد شاہ ابدالی کو شریف بیگ کی بغاوت کی اطلاع ہو گئی، اس نے بھاڑو خان درانی کی قیادت میں ایک لشکر جرار روانہ کیا، جس سے قلعہ تو فتح نہ ہو سکا لیکن شہر کو فتح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد شریف بیگ کی طلب کردہ بھنگی مثل کی کمک بھی ملتان پہنچ گئی۔ سکھ جرنیل گنڈا سنگھ کی قیادت میں آنے والے سکھوں نے شہر کے باہر ڈیرہ لگایا اور شریف بیگ کو کہلا بھیجا کہ شہر کا ایک دروازہ ہمارے حوالے کر دو۔

ان دنوں اندر کے بہت سے امراء بھی سکھوں سے ملے ہوئے تھے‘ انہوں نے سکھوں کو پیغام بھیجا کہ شریف بیگ تکلو عید کی نماز کے لئے قلعہ سے باہر آئے گا‘ اس دوران سکھ فوج قلعہ کے اندر داخل ہوجائے گی‘ وہی ہوا شریف بیگ عید کی نماز کے لئے قلعہ سے باہر آیا تو سکھ فوج قلعہ پر قابض ہوگئی۔ یوں گنڈاسنگھ نے کم و بیش 9 سال ملتان پر حکومت کی۔ سکھوں کے اس دور حکومت میں مسلمان ظلم و ستم کا شکار رہے‘ گنڈا سنگھ نے مسلمانوں سے اراضیات لے کر اپنے سکھ رفیقوں کو دے دیں، بے شمار مسلمان اس دوران ملتان چھوڑ گئے۔

جو بچ گئے وہ سکھوں کے مظالم کا شکار ہوتے رہے‘ مسجدیں گوردواروں کے طور پر استعمال ہونے لگیں، اذان موقوف ہو گئی، سرکاری معاملے پر گورد وارہ ٹیکس لگا دیا گیا، جو وصول ہو کر سکھوں کے مذہبی امور پر خرچ ہوتا تھا، نواب شجاع خان، جو واقعات کے حاشیے پر تاک میں تھا، نے افواج بہاولپور کی مدد سے سکھوں کی اس برچھا گردی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا، اپنے لشکر کے ہمراہ سکھوں پر حملہ کیا اور فصیل توڑ کر شہر پر قبضہ کر لیا مگر سکھ قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے، انہی ایام میں کابل حکومت کی طرف سے علی مدد خان درانی سکھوں کو ملتان سے نکالنے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کے لیے ملتان آیا مگر وہ بھی شہر پناہ کو توڑ کر واپس لوٹ گیا۔

پہلے تو سکھ چھوٹے چھوٹے جتھوں کی صورت میں حملہ کرتے تھے اور ملتان کے اطراف میں لوٹ مار کرکے چلے جاتے تھے لیکن 1768ء میں سردار جھنڈا خان نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ ملتان پر حملہ کیا‘ شجاع خان نے احمد شاہ ابدالی کو صورت حال سے آگاہ کیا اور مدد کے لئے درخواست کی، احمد شاہ ابدالی نے سردار جہان خان کی قیادت میں ایک لشکر ملتان روانہ کیا، جس کی اطلاع پاتے ہی سردار جھنڈا سنگھ بھاگ نکلا‘ سردار جہان خان نے پورا موسم گرما ملتان میں گزارا اور یوں شجاع خان کو کچھ وقت مل گیا۔ اسی سال کے آخر میں نواب شجاع خان نے احمد شاہ ابدالی کے دربار میں حاضری کا پروگرام بنایا اور اپنے ایک عزیز کو اپنا نائب مقرر کرکے خود قندھار چلا گیا‘ جب وہ احمد شاہ ابدالی سے ملاقات کرکے واپس ملتان لوٹا تو یہاں کے حالات بہت خراب ہوچکے تھے، اس طرح نواب شجاع خان احمد شاہ ابدالی کو خراج کی مقررہ رقم ادا نہ کرسکا۔

چنانچہ جون 1770ء میں اس نے شجاع خان کو برطرف کرکے حاجی شریف خان کو ملتان کا صوبیدار مقرر کردیا‘ شجاع خان اپنی فوج کے ہمراہ مقابلہ کو آیا لیکن اس کی تمام سپاہ منحرف ہوکر حاجی شریف سے جاملی، یوں شجاع خان مایوس ہوکر اپنی جاگیر شجاع آباد چلا گیا اور زندگی کے باقی دن خاموشی سے گزار دیئے۔ نواب شجاع خان کا انتقال 1776ء میں شجاع آباد میں ہوا۔ شیخ اکرام الحق کی ’’ارض ملتان‘‘ کے مطابق ’’نواب شجاع خان کا زمانہ مدوجزر کا زمانہ تھا، شجاع خان کئی بار ڈوبا کئی بار ابھرا‘ اول علی محمد خوگانی کی قید میں رہا‘ پھر اس کی نعش پر برسراقتدار آیا‘ اپنے محسن احمد شاہ ابدالی کے فرزند تیمور شاہ کے ہاتھوں برطرف ہوا اور حاجی شریف کو ملتان کی عملداری سونپی گئی، اس کا نظام خراب نکلا تو پھر ابھرا‘ اب کے اسے سکھوں نے تنگ کیا اور ملتان چھین لیا۔

شجاع خان کو شجاع آباد میں محصور کردیا گیا‘ بالآخر فتح شجاع خان کی ہوئی اور وہ ملتان کو تیسری بار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا‘‘۔ نواب شجاع خان کے دور میں سدوزئی اقتدار کا اثر رسوخ سرائے سدھو سے لے کر تحصیل شجاع آباد کی جنوبی حدود تک تھا‘ ان کی فوج دو ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی، جس میں 20 توپوں کا توپ خانہ مستقل موجود رہتا تھا، ضرورت کے وقت امدادی فوج 12 ہزار تک پہنچ جاتی تھی۔ نواب شجاع خان ملتان کے ایسے حکمران تھے جو اپنی نیک نامی اور فلاحی کاموں کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں، ملتان اور شجاع آباد میں ان کے خاندان کا تذکرہ آج بھی اچھے الفاظ میں کیا جاتا ہے، نواب شجاع خان کی وفات کے بعد ان کے آباد کردہ شہر وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے رہے۔

نواب شجاع خان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملتان اور شجاع آباد کے ہندو بھی ان کی بہت زیادہ قدر کرتے تھے۔ نواب شجاع خان اور ان کے خاندان نے ملتان کی سیاست پر ایسے نقوش مرتب کیے کہ اس خطے کی سیاست میں آج بھی اس خاندان کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ نواب شجاع خان نے سکھوں کے خلاف جو مزاحمتی کردار ادا کیا وہ اس خطے کی تاریخ کا اہم حصہ ہے، بعد ازاں 1818ء میں ان کے بڑے صاحبزادے نواب مظفر خان کا سکھوں کے خلاف مزاحمتی کردار اور شہادت انہیں اس خطے کا ہیرو بنا گئی اور ہیرو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

نواب شجاع خان کا مزار
نواب شجاع خان کا مزار شجاع آباد شہر سے ایک میل جنوب مغرب کی طرف بستی خیر پور میں واقع ہے‘ نواب مظفر خان نے اپنے والد کے مزار کے گرد پختہ احاطہ تعمیر کرایا اور مزار کے قریب ہی قرآء و حفاظ آباد کئے‘ کسی دور میں یہاں روز قرآن و حدیث کا درس ہوتا تھا۔

نواب شجاع کی قبر پختہ ہے اور اس پر سبز رنگ چادر بھی پڑی ہے، قبر پر کوئی کتبہ نہیں البتہ آئرن کا ایک فریم اس پر نصب ہے اور عارضی چھت بھی ڈالی گئی ہے۔ تعمیر کے وقت اس مزار کے گرد خوبصورت چار دیواری بھی تھی جس میں ایک محراب پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا‘ کہا جاتا ہے کہ 1818ء میں ملتان پر سکھوں کے حملہ کے وقت سکھ فوج کے کمانڈر کھڑک سنگھ نے ملتان کو تباہ کرکے شجاع آباد کا رخ کیا‘ شہر اور قلعہ پر حملہ کے ساتھ ساتھ اس نے نواب شجاع کی قبر پر بھی فائرنگ کی۔ شجاع خان کی قبر پر کھڑک سنگھ کی فائرنگ کے نشانات دیر تک رہے۔ کہا جاتا ہے کہ کھڑک سنگھ نے مزار میں کندہ کلمہ طیبہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا تھا۔

نواب شجاع خان کی شادیاں اور اولاد
نواب شجاع خان نے پہلی شادی حاجی محمد خان سدوزئی کی ہمشیرہ سے کی، جس سے کوئی اولاد نہ ہوئی‘ اس کے بعد یکے بعد دیگرے دو شادیاں کیں، ایک بیوی سے نواب مظفر خان جو بعد میں طویل عرصہ ملتان کے گورنر رہے اور سکندر خان پیدا ہوئے دوسری بیوی سے غضنفر خان اور ایک بیٹی جبکہ ایک بیٹا ان کی وفات کے بعد پیدا ہوا۔ نواب شجاع خان کی اولاد میں سے سکندر خان اور غضنفر خان باپ کی وفات کے بعد حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہوئے جبکہ ان کے سب سے بڑے فرزند طویل عرصے ملتان کے گورنر رہے۔

مولانا نور احمد فریدی کی تاریخ ملتان کے مطابق ’’نواب شجاع خان بڑے اشتیاق سے ایک جگہ شادی کرنے جارہے تھے، شادیانے بجائے جارہے تھے کہ ایک نوجوان نے گھوڑے کی رکاب تھام کر کیا حضور! آپ جس عورت سے شادی کرنے جارہے ہیں وہ میری منسوبہ ہے، یہ سن کر نواب کے قدم رکے نہیں وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق نکاح کی مجلس میں بھی گئے، نکاح بھی ہوا مگر ان کا نہیں بلکہ اس نوجوان کا، نواب نے سرپرست بن کر جملہ رسومات ادا کیں، ہزاروں روپے کے زیورات اور ظروف جو اس تقریب کے لئے تیار کئے گئے تھے، اس نوجوان کو دے دیئے۔ نواب کا دستور تھا کہ جب کبھی شجاع آباد میں باہر سے بارات آتی تو وہ خود تشریف لے جاتے، دلہن کو قیمتی جوڑا اور طلائی ہار مرحمت کرتے اور کہتے بیٹی تو شجاع خان کے شہر سے جارہی ہے اس شہر اور میری عزت کا خیال رکھنا‘‘۔

نواب شجاع خان کے آباد کردہ شہر
ملتان کے معروف سدوزئی خاندان کی تاریخ پر مشتمل کتاب ’’تذکرۃ الملوک‘‘ جو شہزادہ علی محمد خان ملوک کی فارسی تصنیف ہے ایک اہم ترین تاریخی دستاویز ہے۔ ’’تذکرۃ الملوک‘‘ کے مطابق ’’نواب شجاع خان مواضعات، زرعی زمینیں دیہات اور جنگل خریدنے کا مریض تھا، نئے قلعہ جات کی تعمیر سے بھی اسے بہت دلچسپی تھی، نواب شجاع خان نے قلعہ شجاع آباد، خان گڑھ، سکندر آباد اور غضنفر گڑھ اپنی اراضیات پر قائم کیے۔

انہوں نے شجاع آباد شہر کی بنیاد بڑی چاہت سے ڈالی اور بڑی تگ و دو سے اسے آباد کیا، یہ سارے شہر نواب شجاع خان اور ان کے اہل خانہ کے نام پر آباد ہوئے جو آج بھی نواب شجاع خان اور ان کے خاندان کے لوگوں کے نام زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ منشی حکم چند کی ‘‘تواریخ ملتان‘‘ کے مطابق ’’نواب شجاع خان نے 1817ء میں شجاع آباد کو آباد کیا، یہ شہر روز آبادی سے ہی بڑا آباد رہا کبھی ویران نہیں رہا، اول چوہدری گردھاری مل چاولہ، خوشی رام نارنگ، رام سہائے مل قوم ببلہ، مصر لونی چند برہمن اور گلاب رائے قوم رپڑ کو طلب کر کے نواب صاحب نے آباد کیا۔ یہ لوگ پہلے سلیم پور میں رہتے تھے دیگر لوگ دیہات ازطرف راوہ وغیرہ طلب کر کے بسائے، مکانات اکثر لوگوں کو نواب نے بنا کر دیئے اور بعض نے خود بنوائے۔

روز بروز رونق شہر کی بڑھتی رہی، شجاع خان نے اپنی رہائش کے واسطے ایک بنگلہ بنوایا، بازار چوپڑ صورت کا بھی نواب شجاع خان نے بنوایا‘‘۔ کہا جاتا ہے کہ نواب شجاع خان جب پہلی مرتبہ چھ ماہ کے لیے ملتان کے گورنر بنے تو اسی دور میں شجاع آباد کی بنیاد رکھی گئی وہاں ایک مضبوط قلعہ بنوایا۔ ملتان اور شجاع آباد کے درمیان اپنے بیٹے سکندر خان کے نام پر سکندر آباد، آباد کیا اپنے سب سے چھوٹے بیٹے غضنفر خان کے نام پر خان گڑھ کے قریب ایک چھوٹا سا فصیل بند شہر غضنفر گڑھ آباد کیا، مولانا نور احمد فریدی کی ’’تاریخ ملتان‘‘ کے مطابق ’’نواب صاحب کی صاحبزادی خان بی بی کے نام پر دریائے چناب کے دائیں کنارے خان گڑھ آباد کیا گیا۔ نواب صاحب اور خان بی بی نے دریا کے دونوں طرف لنگر جاری کیا، اس حوالے سے دریا کے کنارے ایک بستی ’’لنگر اویں‘‘ کے نام سے اب تک آباد ہے۔ شجاع آباد کا ایک نام شجاع دا کوٹ اور تل کوٹ بھی ہے‘ انگریز مؤرخین کے مطابق 1748ء یا 1750ء میں اس شہر کی بنیاد رکھی گئی‘ اس کی آبادی اور ترقی کے لئے دوردور سے اہل حرفہ اور تاجر بلائے گئے۔

1767ء سے 1772ء کے درمیان نواب شجاع خان نے قصبے کے چار طرف اینٹوں کی ایک مضبوط فصیل تعمیر کرا کے اسے بیرونی حملوں سے محفوظ کیا‘ فصیل کے چاروں کونوں پر حفاظتی برج بنوائے‘ 40 فٹ گہری خندق کھدوائی‘ کہا جاتا ہے کہ نواب شجاع خان نے جب شجاع آباد کی بنیاد رکھی تو اس کے ہر مکان کو قبلہ رخ بنوایا اور ہر عیال دار کو ایک کھلا مکان رہائش کے لئے پیش کیا۔ شجاع آباد کے قریب نواب شجاع خان نے ایک گائوں ’’چک‘‘ کے نام سے بھی آباد کیا، برطانوی دور حکومت میں جب اس چک میں ریلوے سٹیشن قائم ہوا تو اس چک کا نام ’’چک آر ایس‘‘ یعنی چک ریلوے سٹیشن ہو گیا۔ اس گائوں کے حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ شجاع آباد میں قائم ہونے والا یہ ’’چک‘‘ ہی اس خطے کا پہلا چک ہے، برطانوی دور حکومت میں اس خطے میں بہت سے چک آباد کیے گئے لیکن نواب شجاع خان کے آباد کردہ اس چک کو اولیت حاصل ہے۔

سدوزئیوں کا حلف نامہ اور شجاع خان کی گرفتاری
حضرت امیر سدو میر افغان کے عہد میں افغان قوم نے یہ حلف اُٹھایا تھا کہ ان کی اولاد میں سے کسی قصوروار کو افغان سزا نہیں دے سکیں گے، سدوزئی کو صرف سدوزئی ہی سزا دے سکے گا‘ اس معاہدے سے افغانوں نے کبھی انحراف نہیں کیا۔ احمد شاہ ابدالی نے جب نواب شجاع خان کو پہلی مرتبہ ملتان کا گورنر مقرر کیا تو اس نے ایسی اصلاحات کیں کہ جس سے کچھ بااثر درانی امراء کے مفادات پر زد پڑتی تھی، لہٰذا شجاع خان کو ہٹا کر نواب علی محمد خان کو ملتان کا گورنر بنا دیا گیا۔ شجاع خان نے چارج دینے سے انکار کیا تو دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی‘ نواب شجاع خان کی فوج منحرف ہونے سے فتح علی محمد خوگانی کے ہاتھ رہی اور نواب شجاع خان گرفتار ہو گئے۔

نواب علی محمد خوگانی نے شجاع خان کی جاگیر تعلقہ شجاع آباد تمام ضبط کر لیا اور قید میں رکھا‘ اس دوران نواب شجاع خان کا بیٹا نواب مظفر خان احمد شاہ ابدالی کے پاس کابل گیا‘ والد کی گرفتاری اور قید کا حال عرض کر کے دادخواہ ہوا‘ احمد شاہ ابدالی ان دنوں مرہٹوں سے فارغ ہو چکا تھا‘ وہ لاہور سے ہوتا ہوا ملتان کی طرف متوجہ ہوا۔ نواب علی محمد خوگانی کو یہ اطلاع ملی تو سخت گھبرایا‘ اس نے فوراً شجاع خان کو رہا کر دیا۔ قید کے دوران شجاع خان کے بال اور ناخن اس قدر بڑھ چکے تھے کہ اس نے انہیں کٹوا کر محفوظ کر لیا‘ جس وقت احمد شاہ ابدالی ملتان میں داخل ہوا تو رات کو شجاع خان کی بوڑھی چچی نے بادشاہ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی‘ اجازت ملنے پر حاضر ہوئی اور بولی کہ دیکھو خوگانی کے بیٹے نے سدو کے بیٹے کا کیا حال کیا ہے‘ اس پر احمد شاہ ابدالی غضب میں آ گیا۔

ادھر علی محمد خوگانی کو احمد شاہ ابدالی کے متوقع غضب کی بھنک پڑ چکی تھی‘ اس نے اپنی تمام دولت اور مستورات کو نواب بہاولپور کی پناہ میں قلعہ موج گڑھ بھیج دیا، خود استقبال شاہ کے لئے قلعہ سے باہر آیا اور احمد شاہ ابدالی کو بڑی دھوم دھام سے قلعہ میں لے گیا جب شاہ قلعہ میں متمکن ہو گئے تو اس نے اچانک علی محمد خوگانی اور اس کے بیٹے غلام مصطفے خان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ سزائے موت کا بھی حکم دیدیا۔ نواب علی محمد خوگانی کی تمام ظاہری جائیداد بھی نواب شجاع خان کے حوالے کر دی گئی اور اسے صفدر جنگ کا خطاب دے کر دوبارہ ملتان کا گورنر بنایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ نواب علی محمد خوگانی نے وزیر شاہ ولی خان بادوزئی کی معرفت جان بخشی کے لئے ایک کروڑ رویہ پیش کرنے کا وعدہ کیا لیکن احمد شاہ ابدالی نے جان بخشی نہ کی کہ میں ایک کروڑ روپیہ کے بدلے سدوزئی خاندان کی عزت فروخت نہیں کر سکتا۔

نواب علی محمد خوگانی کی احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں عبرتناک موت کے پس منظر میں صرف نواب شجاع خان کی گرفتاری و سزا نہیں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ نواب شجاع خان کی علی محمد خوگانی کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد افغان سدوزئیوں پر دلیر ہو گئے تھے اور انہیں خاطر میں نہ لاتے تھے‘ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ جب احمد شاہ ابدالی علی محمد خوگانی کو سزا دینے کا فیصلہ کر رہا تھا اسی دوران انہیں ایک رقعہ دیا گیا جو عبدالرحیم خان سدوزئی نے بھیجا تھا اس میں لکھا تھا کہ جب سکھ ملتان آئے تو گورنر (علی محمد خوگانی) نے طاقت ہونے کے باوجود ان کی مدد نہ کی، کچھ سدوزئی مارے گئے، حرم بے عزت ہوئے، مال و اسباب لوٹ لیا گیا۔ یہ رقعہ پڑھ کر احمد شاہ ابدالی مزید غیض و غضب کا شکار ہو گیا اور اس نے علی محمد خوگانی کو نشان عبرت بنا دیا۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Protected contents!