منډيګک
افغان تاريخ

کوئٹہ کا ریاست قلات سے الحاق

0 409

کوئٹہ کا ریاست قلات سے الحاق 6 اکتوبر 1842

1842 میں انگریزوں کا اس ملک [افغانستان] سے [پہلی افغان اینگلو جنگ میں شکست اور] پسپائی کے بعد شرا رود اور پشین دوبارہ پشتونوں (افغانستان) کے ہاتھ آئے جبکہ کوئٹہ انگریزوں نے (افغانستان کا مقبوضہ علاقہ) قلات میں بغاوت کے بعد خان آف قلات نصیر خان دوم کے حوالے کیا. بظاہر تو انگریزوں نے قلات کے ساتھ خیرسگالی کا رویہ دکھایا مگر اس اقدام کے پیچھے انگریزوں کی نیت کچھ اور تھی. 1839 میں جب انگریزوں نے قلات کے بروہی خان [میر محراب خان] کو شہید کیا اور ساتھ ہی میر شاہنواز خان کو قلات کا نیا خان مقرر کیا؛ تو قلات میں انگریزوں کے خلاف ایک عام بغاوت بپا ہوا جس کی وجہ سے انگریز اس بات پر مجبور ہوئے کہ نصیر خان کو خان مقرر کرئے. اور یوں نصیر خان کی تاجپوشی کو قانونی شکل دی گئی.
پہلی افغان اینگلو جنگ 1838تا1842کے بعد اور اس جنگ سے پہلے بھی انگریزوں کی نگاہیں افغانستان پر جمی ہوئیں تھیں [انگریز دراصل وسطی ایشیا میں روس کی بڑھتی ہوئی قوت سے خایف تھے اور قوی امکان تھا کہ یہ روسی قوت براستہ افغانستان جنوبی ایشیا اور ہندوستان تک جا پہنچے جبکہ انگریز چاہتے تھے کہ افغانستان پر قبضہ کر کے نہ صرف جنوبی ایشیا کو روس سے محفوظ رکھ سکے بلکہ افغانستان میں بیٹھ کر وسطی ایشیا میں بھی روس کے ساتھ مقابلہ کر سکے . اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے افغانستان پر انگریزی قبضہ لازمی تها] اور کوئٹہ افغان قوت کو کچل دینے کے لئے سندھ اور کندھار کے بیچ ایک اہم مقام تھا [اور آج بھی ہے] اسکے علاوہ اس مقام کی اہمیت انگریزوں کی نگاہ میں اس لئے بھی تھی کہ ایک تو یہ درہ بولان کے عین منہ پر واقعہ تھا اور دوسرا یہ افغانستان کا آخری سرحدی شہر تھا [مصنف نے کوئٹہ شہر کو آخری سرحدی شہر لکھا ہے جبکہ فی الحقیقت افغانستان کا آخری سرحدی شہر سبی تھا جو درہ بولان کے اس پار قلات کی سرحد پر واقعہ تھا] اور انگریز کوئٹہ کو ہندوستان کی چابی سمجھتے تھے. اور یوں انگریزوں کی نگاہیں بہت پہلے کوئٹہ پر جمی ہوئی تھیں. اس زمانے میں انگریزوں کے لئے یہ بات بھی اہم تھی کہ کس طرح قلات کے نئے خان کو خوش کر کے ان سے کام لیا جاسکے تو اسی بنا پر کوئٹہ جو انہوں نے پشتونوں (افغانستان) سے قبضہ کیا تھا کو پہلی افغان جنگ کے بعد پشین اور شرا رود کے طرز پر دوبارہ پشتونوں (افغانستان) کے حوالے نہیں کیا بلکہ اپنی واپسی (اکتوبر 1942) سے پہلے ہی 1841 میں ایک معاہدے کے تحت جس پر 6 اکتوبر کو دستخط ہوئے خان قلات کے حوالے کیا گیا. انگریزوں کے اس اقدام سے انگریزوں کے کئی اہم مفادات وابسطہ تھے مثلا یہ کہ کویٹہ [جو افغانستان اور وسطی ایشیا کی طرف فوجی اور جنگی پیش قدمی کے نقطہ نگاہ سے نہایت ہی اہم مقام ہے] کو دوبارہ حاصل کرنا افغانستان کی نسبت خان قلات سے لے لینا بہت ہی آسان عمل تھا. انگریزوں کا دوسرا مفاد اس علاقے میں افغانستان کا سر کچلنے کے لئے ایک مضبوط فوچی چھاونی کا قیام تھا جو انہوں دوسری افغان جنگ 1878 کے دوران قایم بھی کر دی. کوئٹہ کو براے نام خان قلات کے علاقوں میں ضم کر دینے میں انگریزوں کا تیسرا اہم مفاد یہ تھا کہ اس عمل سے انہوں نے خان قلات کو خوش کر دیا اور ان کی طرف سے کسی بھی قسم کی ھلچل سے مطمئن ہوگئے [خان قلات ایک طرح سے اس پورے خطے میں انگریزوں کے اتحادی بن گئے اور یقینا یہ اتحاد یا کم از کم غیر جانبداری اس خطے میں.

شال (کوئٹہ) 1935 کے حول ناک زلزلے سےقبل شہر کے کچھ مناظر…

انگریزوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت و رحمت سے کم نہ تھی] لہذا اسی بنا پر پہلی افغان جنگ 1838تا1842 کے بعد پشین اور شرہ رود تو پشتونوں کو واپس حاصل ہوگئے مگر کوئٹہ کو انگریزوں نے [پہلے ہی] قلات کے بروھی خان کے حوالے کر دیا تها. کوئٹہ کو پہلی بار انگریزوں نے خان قلات کے حوالے کیا تھا ورنہ اس سے پہلے کوئٹہ افغانستان کے صوبہ کندہار کا صدیوں سے ایک حصہ رہا اور افغانستان کا ایک جز لاینفک اور ہمیشہ سے پشتونوں کا گڑھ رہا . کوئٹہ کو افغانستان سے علیحدہ کرنے اور قلات کے ساتھ اس کے الحاق جیسی عظیم بے انصافی کے بہترین ثبوت ان لوگوں کے بیانات کی شکل میں موجود ہیں جنہوں نے خود اس عظیم بے انصافی پر مبنی کام سرانجام دیا تھا. سر رابرٹ سنڈیمن کی سوانح کا مولف مسٹر تھارنٹن مزکورہ کتاب کے صفحہ 98 پر یو لکھتا ہے : "کوئٹہ اگرچہ اس وقت (افغان جنگ کے بعد) قلات کی خانی کا حصہ ہے؛ مگر بہرصورت جغرافیائی اور نسلی طور پر اس پر پشین کا حق ہے. اس (کوئٹہ) کا چشمہ (پانی) پشین کے دریا میں جا ملتا ہے [واضح رہے کہ افغانستان اور بلوچستان میں زمین کی تقسیم کا نظام پانی کے بہاو پر مختص ہے] اور یہاں کے باسی تمام تر پشتون ہیں”. آپریشن آف دی آرمی آف انڈس کتاب کے مصنف صفحہ 49 پر اس بابت رقمطراز ہے: "تاریخی، نسلی اور جغرافیائی اعتبار سے کوئٹہ شہر اور شال کا صوبہ [؟] بشمول مستنگ [مستونگ] افغانستان کے علاقے ہیں”. ڈاکٹر بیلیو اپنی کتاب فرام انڈس ٹو ٹگرس کے صفحہ 99 پر لکھتا ہے کہ

” شال مستنگ (مستونگ) اور شوراوک کے اضلاع اب تک (1874) افغانستان کی طرف سے اپنی مملکت کے حصے شمار کئے جاتے ہیں. اگرچہ یہ علاقے اب خان قلات کی ماتحت کر دیئے گئے ہیں”.

ہندوستان کے لارڈ لارنس "ٹایم” اخبار کو ایک م

کوئٹہ شال کوٹ ایک پرانا شہر ہے جس کا نام ایک پشتو لفظ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنیٰ ‘قلعہ’ کے ہیں

راسلے 31 اکتوبر 1878 میں یوں لکھتا ہے: "ہم انگریزوں میں یہ کہا جاتا ہے، کہ کوئٹہ افغانستان کا حصہ نہیں ہے اور ہم (انگریز) اس شہر کو دوبارہ قبضہ کرنے کا حق اس لئے رکھتے ہیں کہ ہم نے خان قلات سے اس کا معاہدہ کیا ہے. میں (لارڈ لارنس) کہتا ہوں کہ یہ بات درحقیقت درست نہیں ہے. اگر ہم یہ کہتے کہ ( کوئٹہ خان قلات کی ملکیت ہے) تو یہ بھی حقیقت نہیں ہے. یہ ہماری پالیسی [کا حصہ] ہے”.

(فرم افغانستان پیپرز 1878 صفحہ 180).

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Protected contents!