منډيګک
افغان تاريخ

پہلے اور دوسرے افغان جنگ کا مختصر تاریخ و واقع

اخلاق خان اچکزی

پہلی انگریز افغان جنگ ایسٹ انڈیا کمپنی اور افغانستان کے مابین سنہ 1839ء تا 1842ء تک لڑی گئی اس جنگ میں مجموعی طور پر افغانوں کی فتح ہوئی 4500 انگریز اور ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ان کے ساتھ کے حواریوں میں 12000 لوگ ہلاک ہوئے۔ 1842 کے دوران کہانی...
0 213

پہلی قسط

افغانستان کے لیے جنگوں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ ہم تین سو سال قبل احمد شاہ ابدالی سے شروع کرتے ہیں۔ اس کا تعلق افغانستان کے سیدوزئی قبیلے سے تھا۔ اس نے ایران کے جنگجو بادشاہ نادر شاہ کے زیرِ سایہ ترقی کی منازل طے کیں۔ 1747ء میں نادر شاہ کے قتل کے بعد اس نے شاہ کے زرو جواہرات پر قبضہ کر لیا۔ یہ جواہرات دہلی پر حملے کے دوران لوٹے گئے تھے اور ان میں مغلوں کا شاہکار ہیرا کوہِ نور بھی شامل تھا۔ احمد شاہ ابدالی نے اس دولت کو استعمال کرتے ہوئے قندھار، کابل اور لاہور کو فتح کیا، درانی کا لقب اختیار کر لیا اور ایک وسیع و عریض درانی سلطنت قائم کی جس میں خراسان، نیشاپور، بلوچستان، سندھ، پنجاب اور کشمیر کے علاقے شامل تھے۔ درانی سلطنت کی سرحد مغلوں کے دارالحکومت دہلی پر دستک دے رہی تھی۔ یہ کامیابی اس کو شمال میں ازبک، مغرب میں صفوی اور جنوب میں مغل سلطنت کے زوال کے باعث حاصل ہوئی۔ 1772ء میں وہ سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر انتقال کر گیا تو اس کا بیٹا تیمور شاہ تخت نشین ہوگیا۔ اس نے پشتونوں کی سرکشی سے بچنے کے لیے دارالحکومت قندھار سے کابل منتقل کر لیا۔لیکن ایسا کرنے میں ایران اور ہندوستان کے سرحدی علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔ 1793ء میں اس کی وفات کے بعد اس کے چوبیس بیٹوں میں جا نشینی کی لڑائیاں شروع ہوگئیں۔ پہلے شاہ زمان تخت نشین ہوا۔اس کو بادشاہت کی مسند پر فائز کرنے میں بارک زئی قبیلے کے طاقتور سردار پایندہ خان کا ہاتھ تھا۔ وہ ایک بادشاہ گر تھا۔ وہچھے سال تک شاہ زمان کے دربار میں وفادار وزیررہا۔ بعد میں دونوں کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ شاہ زمان کو شک ہوگیا کہ پایندہ خان اس کے خلاف بغاوت کی سازش کر رہا ہے چناں چہ اس نے اپنے محسن پایندہ خان کو قتل کر وا دیا۔ اس کے نتیجے میں افغانستان کے دو سرکردہ قبائل کے درمیان ایسا خونی جھگڑا شروع ہوگیا جس نے آیندہ پچاس سال تک اقتدار کی کشمکش پرگہرے اثرات ڈالے۔پایندہ خان کے اکیس بیٹے تھے۔ یہ سب سیدوزئی حکمرانوں کے جانی دشمن ہوگئے۔ 1800ء میں شاہ زمان کے سوتیلے بھائی شاہ محمود نے اُس کے دشمن بارک زئی قبیلے سے مل کر اسے نہ صرف اقتدار سے محروم کیا بلکہ اس کو اندھا کروایا اور قید خانے میں بند کر دیا۔ تین سال بعد شاہ زمان کے حقیقی بھائی شاہ شجاع نے اقتدار کی اس جنگ میں شاہ محمود کو قصرِ شاہی سے نکال باہر کیا۔ تاہم اس نے رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو اندھا نہیں کروایا بس اس کو ایک مکان میں نظر بند کر دیااور اپنے بھائی شاہ زمان کو قید سے رہائی دلائی۔ شجاع نے بارک زئی قبیلے کے ساتھ خونی جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے بارک زئی بھائیوں وزیر فاتح خان اور دوست محمد خان کو دربار میں جگہ دی اور ان کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے ان کی بہن وفا بیگم سے شادی بھی کر لی، تاہم یہ اتحاد عارضی ثابت ہوا۔ کشمیر کی بغاوت کو دبانے کے لیے 15000آدمیوں پر مشتمل جو مہم بھیجی گئی تھی وہ بری طرح ناکام ہوگئی۔ زیادہ تر سپاہی مارے گئے یا دشمن سے جا ملے۔ صرف 3000آدمی جانیں بچا کر واپس آسکے۔ شاہی خزانہ خالی تھا، فوج منتشر اور قبائلی سردار سرکش تھے۔ اس لیے شجاع کا اقتدار عدم استحکام کا شکار تھا۔ تاہم 1809ء میں شاہ شجاع کو دو اچھی خبریں ملیں۔ پہلی خبر یہ تھی کہ اس کے گمشدہ خاندانی جواہرات کوہِ نور اور پکھراج واپس مل گئے۔ دوسری یہ کہ ہندوستان کے انگریز گورنر جنرل نے تاریخ میں پہلی مرتبہ افغانستان کے لیے برطانوی سفیر کا تقرر کیا اور سفارتی قافلہ دہلی سے روانہ ہوچکا تھا۔ مائونٹ اسٹیوارٹ الفنسٹون کی سربراہی میں سفارتی قافلہ دو سو گھڑ سواروں، چھے سو اونٹوں، ایک درجن ہاتھیوں اور چار ہزار پیادہ فوج پر مشتمل تھا۔ تقریباً چھے ماہ کے سفر کے بعد یہ قافلہ پشاورپہنچا۔ اس زمانے میں پشاور کافی بڑا، گنجان آباد اور دولت مند شہر تھا۔ یہ درانی سلطنت کا سرمائی صدر مقام اور پشتون ثقافت کا بڑا مرکز تھا۔ یہ شہر دو عظیم شاعروں خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کا وطن بھی تھا۔ خوشحال خان خٹک ایک حریت پسند شاعر تھا اور مغل شہنشاہ اورنگ زیب کا سخت مخالف۔ الفنسٹون اس کا موازنہ سکاٹش حریت پسند ولیم ویلیس(William Wallace) سے کرتا ہے۔ شاہ شجاع کے ساتھ الفنسٹون کی پہلی ملاقات کو ولیم فریزر نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ’’شوخ رنگ وردی پوش محافظ، انگریز افسروں کو اپنی حفاظت میں لے کر پشاور کے بازاروں سے گزرے۔ انھوں نے افغان آدمیوں کو لمبے چوغے پہنے ہوئے اور خواتین کو سفید برقعوں میں ملبوس دیکھا۔ ان کو پشاور کے قلعے بالاحصار میں لے جایا گیا جہاں شاہ کے ہاتھی اور شیر موجود تھے۔ آخر وہ دربار کے سامنے بڑے صحن میں پہنچ گئے۔ درمیان میں فوارے چل رہے تھے۔ سامنے رنگ و روغن سے مزین ایک شاندار دو منزلہ عمارت تھی جس کے مرکز میں ایک گنبد نُما سائبان تھا۔ اس سنہرے گنبد کے نیچے ایک بلند تخت پر بادشاہ جلوہ افروز تھا۔ دو خدمت گار پنکھا جھل رہے تھے۔ منظر تصوراتی ایشیائی بادشاہتوں جیسا تھا۔ جب ہم داخل ہوئے تو ہم دستور کے مطابق تین مرتبہ ہیٹ اُتار کر اور جھک کر آدابِ شاہی بجا لائے اور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ دربار کے دونوں طرف جو مسلح دستے قطار باندھے کھڑے تھے ان کو جانے کا حکم دیا گیا اور وہ باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے باہر چلے گئے۔ ایک افسر الفنسٹون کے آگے کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکارا، ’یہ فرنگی سفیر مسٹر الفنسٹون بہادر ہیں۔خدا ان پر رحمت کرے‘۔ اسی طرح دوسرے افسران کے نام پکارے گئے۔ شاہ نے بلند آواز میں کہا ’’خوش آمدید۔‘‘ اس کے بعد شاہ شجاع اپنے تخت سے نیچے اترا اور ایک نچلے تخت پر بیٹھ گیا۔ سفارت کار اس کے سامنے قیمتی قالینوں پر جا کر کھڑے ہوگئے۔ بادشاہ نے خاموشی کو توڑتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا شاہِ برطانیہ اور اس کی قوم بخیریت ہیں۔ پھر کہا کہ انگریز اور افغان قوم کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں اور ہم اعتماد رکھتے ہیں کہ ایسے ہی رہیں گے۔ اس پر الفنسٹون نے جواب دیا۔ ’اگر خدا کو ایسا منظور ہے۔‘ اس کے بعد گورنر جنرل کا خط شجاع کے سامنے پیش کیا گیا۔ الفنسٹون نے اپنی سفارت کے اسباب اور مقاصد بیان کیے۔ شجاع نے بہت مثبت اور خوش آمدانہ جواب دیا۔ شاہ کی طرف سے برطانوی مہمانوں کو خلعت ہائے فاخرہ عنایت کی گئیں جن کو پہن کر وہ رخصت ہوئے۔ ولیم فریزر لکھتا ہے کہ بادشاہ کی قدوقامت 5فٹ 6اِنچ کے قریب تھی۔ اس کا رنگ گورا لیکن سرخی کے بغیر تھا۔ اس کی ڈاڑھی سیاہ تھی۔ اس کے ابرو بلند اور سیدھے تھے۔ آنکھوں میں سُرمہ لگا ہوا تھا۔ اس کی شخصیت رُعب دار اور باوقار تھی۔ شاہ کا لباس بڑا شاندار اور جواہرات سے مزین تھا۔ اس کے تاج کا فریم مخمل کا تھا۔ اس پر خوب صورت پَر، سونا، قیمتی پتھر خصوصاً زمرد، یاقوت اور موتی جڑے ہوئے تھے اور غیرمعمولی جسامت کے تھے۔ اس کے سینے اور دونوں رانوں پر ہیروں سے جڑی ہوئی پلیٹیں تھیں۔ بازوئوں پر زمرد اور دوسرے قیمتیپتھروں کے بند تھے۔ ایک بازو پر کوہِ نور بھی دمک رہا تھا۔ اس کا تاج و تخت الف لیلوی داستانوں کا رومانوی نقشہ پیش کر رہا تھا۔ جس جگہ ہم کھڑے تھے وہ عام دربار تھا جہاں وہ اپنی رعایا کی فریادیں سنتا تھا۔ اس جگہ انعامات بھی دیے جاتے تھے اور سزائیں بھی۔ اس کی آواز صاف اور شاہانہ تھی۔ شاہ شجاع برطانوی سفیر کی آمد پر بہت خوش تھا کیونکہ اس کو ایسے مضبوط اتحادی کی ضرورت تھی۔ لیکن برطانوی سفیر کو اپنی آمد کے بعد جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ حکومت پر شجاع کی گرفت کمزور ہوچکی تھی۔ مقامی سردار آزاد اور سرکش ہوچکے تھے۔ سڑکیں غیر محفوظ اور امن و امان کی حالت دگرگوں تھی۔ ان حالات میں برطانوی سفیر اور ان کے ساتھیوں نے شاہ شجاع سے رخصت کی اجازت لی اور واپس دہلی کی طرف روانہ ہوگئے۔ کابل پر بارک زئی بھائیوں وزیر فاتح خان اور دوست محمد خان کاقبضہ ہوچکا تھا۔ شجاع کا سوتیلا بھائی شاہ محمود حراست سے فرار ہو کر شجاع کے دشمن بارک زئیوں سے جا ملا تھا اور شجاع کو نہایت طاقتور حریفوں کا سامنا تھا۔ ان حالات میں اس نے اپنے سیدوزئی حرم کو اپنے بھائی شاہ زمان اور اپنی بیوی وفا بیگم کی قیادت میں ہندوستان روانہ کر دیا۔ اُنھوں نے لاہورپہنچ کر پنجاب کے سکھ حکمران رنجیت سنگھ کی پناہ حاصل کر لی۔ شاہ محمود اور بارک زئی جنگجوئوں کی مزاحمت کے لیے شاہ شجاع اپنی بچی کھچی فوج کے ساتھ نملا کے مقام پر پہنچا تو گھات میں بیٹھے ہوئے دشمنوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ شجاع کا جرنیل اور بیشتر فوجی مارے گئے اور وہ خود اپنے محافظ دستے سے الگ ہوگیا۔ فطرت کے عناصر بھی پوری شدت سے حملہ آور ہوگئے اور جب برق و باراں کے ایک طوفان نے شکست خوردہ فوج کو آلیا۔ شاہ شجاع بڑی مشکل سے اپنے گھوڑے سمیت طوفانی دریا کو عبور کرنے میں کامیاب ہوسکا۔ شاہِ افغانستان مکمل طور پر تنہا تھا اور رات کی تاریکی میں کسی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں سرگرداں۔ کئی ماہ تک وہ اپنے سابق اتحادیوں سے رابطے کرنے میں مصروف رہا تاکہ ان کی مدد سے وہ شاہ محمود سے اپنا کھویا ہوا تخت بازیاب کرا سکے۔ اس کے ایک سابق درباری عطا محمد نے اس کو اٹک کے قلعے میں آنے کی دعوت دی۔میزبانوں نے میٹھے تربوز کھانے کے لیے پیش کیے۔ کھانے کے بعد انھوں نے تربوز کے چھلکے ایک دوسرے پر پھینکنے شروع کر دیے۔ یہ کھیل جلد ہی بدتمیزی اور تضحیک میں بدل گیا۔ شجاع کو احساس ہوگیا کہ اس کو گرفتارکیا جا چکا ہے۔ پہلے اس کو اٹک کے قلعے میں رکھا گیا پھر سخت نگرانی میں کشمیر بھیج دیا گیا۔ چونکہ اس کا انتہائی قیمتی ہیرا کوہِ نور بھی اس کے قبضے میں تھا، اس کے دشمن اسے حاصل کرنے کے لیے دھمکیوں اور تشدد سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ اُدھر شاہ شجاع کی دانش مند اور بہادر بیوی وفا بیگم نے رنجیت سنگھ سے مذاکرات کیے کہ اگر وہ اس کے شوہر شجاع کو کشمیر کی قید سے رہائی دلائے تو کوہِ نور اس کو دیا جائے گا۔ رنجیت سنگھ رضا مند ہوگیا۔ 1813ء میں اس نے فوجی دستے کشمیر بھیجے جنھوں نے وہاں کے گورنر کو شکست دی اور شاہ شجاع کو لاہور لے آئے۔ لاہور میں شجاع کو اس کی بیگم سے الگ مبارک حویلی میں زیرِحراست رکھا گیا اور مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی بیگم کے وعدے کو پورا کرے۔ شجاع کے تامل پر اس کو ایک پنجرے میں بند کر دیا گیا اور اس کے بڑے بیٹے پرنس تیمور کو اس کے سامنے اذیت کا نشانہ بنایا گیا حتیٰ کہ اس نے اپنا قیمتی ہیرارنجیت سنگھ کے حوالے کر دیا۔ وفا بیگم کے اس وعدے کی تکمیل کے باوجود شاہ شجاع کو رہا نہ کیا گیاکیونکہ رنجیت سنگھ اس کو بھی ایک قیمتی سیاسی متاع سمجھتا تھا۔ شاہ شجاع اپنی کتاب ’’واقعاتِ شاہ شجاع‘‘میں ’’یک چشم‘‘گل رنجیت سنگھ کو اس بدعہدی اور کمینگی پر تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ قید کے دوران اپنی بے بسی پر شجاع بہت دل گرفتہ تھا۔ چند ماہ کے بعد رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع کے قبضے میں باقی ماندہ زر و جواہر کو بھی ہتھیانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اُس نے ایک چال چلی۔ اس نے شجاع کو دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ پشاور چلے جہاں اس کے برادرِ نسبتی وزیر فاتح خان کو تخت حاصل کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ جب شجاع ان کے ساتھ لاہور سے باہر چلا گیا تو اچانک اس مہم کو منسوخ کر دیا گیا۔ لیکن اس کی غیر حاضری میںآدھی رات کے وقت مسلح ڈاکوئوں نے لاہور میں اس کے حراستی کیمپ کو لوٹ لیا۔ ڈاکوان کے قیمتی موتی، طلائی زیورات، سونے کے سکوں کے صندوق، عثمانی اور سندھی بندوقیں، عمدہ ایرانی تلواریں، جواہرات سے مزین پستول، عمدہ اونی اور ریشمی شالیں اور ملبوسات سب کچھ لے گئے۔ جب ایک افغان محافظ نے ایک ڈاکو کو پکڑا تو اس نے انکشاف کیا کہ وہ رنجیت سنگھ کے آدمی ہیں۔ شجاع کہتا ہے کہ وہ ان سکھ کتوں کے ظلم اور فریب پر حیران رہ گیا۔ شجاع نے واپسی پر رنجیت سنگھ کو لکھا۔ ’’یہ گھٹیا اور شرمناک حرکتیں بند کرو اور جو کچھ کرنا چاہتے ہو کھل کر کرو۔‘‘ وہ مزید لکھتا ہے ’’جب ہمیں پتا چلا کہ اس ڈکیتی کے پس پردہ رنجیت سنگھ ہے تو ہمیں اس مکار اور ظالم شخص سے کسی بھلائی کی توقع نہ رہی۔ لیکن چونکہ ہماری خواتین لاہور میں اس کی یرغمال تھیں اس لیے ہم نے دل پر جبر کرکے اس ظلم و ستم کو برداشت کیا۔‘‘ تاہم شاہ نے جلدہی اس قید سے بچ نکلنے کا منصوبہ بنا لیا۔ شاہ شجاع نے گھوڑوں کے ایک پشتون تاجر، کچھ لاہوری تاجروں اور ہندوستانی عورتوں کی مدد سے خفیہ طور پربگھیاں خریدیں اور وفا بیگم اور دوسری خواتین کو ہندو عورتوں کے روپ میں لاہور سے باہر سمگل کروا دیا۔ ان کو پنجاب کی سکھ ریاست کے سرحد پار لدھیانہ پہنچا دیا گیا جو انگریزوں کی عملداری میں تھا۔ وہاں انگریز افسروں نے مہمان نوازی اور فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے شکست خوردہ شاہ کی تنہا اور بے سہارا ملکہ کو سیاسی پناہ دے دی۔ جب رنجیت سنگھ کو افغان خواتین کے بچ کر نکل جانے کی اطلاع ملی تو وہ غضب ناک ہوگیا۔ اس نے شجاع کی نگرانی سخت کر دی۔ محافظوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا جو اکثر اس کو اذیت اور تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ شاہ اور اس کے ساتھی ان ظالم سکھوں سے نجات کے لیے قرآن کی آیات پڑھتے رہتے تھے۔آخرکار شجاع کے وفادار ساتھیوں اور خدمت گاروں نے زیرِ زمین سُرنگ کھو دی جس میں ان کو تین ماہ کا عرصہ لگا۔ شجاع نے سکھ بھگت کا روپ دھارا اور دو ساتھیوں سمیت سُرنگ کے راستے فرار ہوگیا۔ شہر کے بیرونی دروازوں پر محافظوں کا سخت پہرہ تھا۔ مجبوراً وہ ایک خشک لیکن تنگ و تاریک نالی کے راستے گھِسٹتے ہوئے باہر نکلے جہاں دریا پر اس کے آدمی کشتی کے ساتھ موجود تھے۔ انھوں نے دریا پار کیا اور بے سرو سامانی کی حالت میں نامعلوم منزل کی طرف چل دیے۔ رنجیت سنگھ کی قید سے رہائی کے بعد چند ماہ کے اندر شجاع نے کشمیر پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کا اِرادہ تھاکہ وہ رنجیت سنگھ کے مخالف راجائوں کی مدد سے ایک مختصر فوج منظم کرے گااور کشمیر پر اچانک حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلے گا۔ بظاہر یہ منصوبہ بہت عمدہ تھا۔ لیکن اس کو پہلا صدمہ اس وقت ہوا جب اس نے اپنا ڈیڑھ لاکھ روپیہ بازیاب کرنے کی کوشش کی جو اس نے لاہور کے منی چینجرز کے پاس جمع کروا رکھا تھا۔ رنجیت سنگھ کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے اس کی بھنک پڑگئی اور اس نے رقم پر قبضہ کرکے اسے اپنے خزانے میں جمع کر لیا۔شجاع کو وفا بیگم کے جواہرات کے بدلے معقول رقم کا بندوبست کرنے اور فوج تیار کرنے میں کافی وقت لگا اور مہم جوئی کا موسم گزر گیا۔ کشمیر کے گورنر کو دِفاع کی تیاری کا مناسب وقت مل گیا۔ اس کے باوجود شجاع نے موسم بہار تک انتظار کرنے کے مشورے کو در خورِ اعتنا نہ سمجھا۔ چناں چہ وہ موسم سرما کے آغاز میں اپنی فوج کے ساتھ ایک غیر معروف راستے سے سری نگر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ایک پہاڑی چوٹی پر اس کی فوج خراب موسم اور برفباری کے طوفان میں گھر گئی۔بہت سے فوجی سردی کی تاب نہ لا کر موت کا شکار ہوگئے۔ ایک برطانوی مصنف کے مطابق بدقسمتی اس شہزادے کے تعاقب میں تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے مقدر سے جنگ لڑ رہا ہے۔ آخرکار وہ لدھیانہ کے قریب برطانوی سلطنت کی سرحد پر پہنچ گیا۔ وہاں انگریز افسر ولیم فریزر نے اس کا اِستقبال کیا اور اس کو اپنے ساتھ لدھیانہ لے گیا جہاں اُس کا ملاپ اپنے حرم سے ہوگیا اور جلا وطنی کے کئی سالوں میں پہلی بار اس نے خوف کے بغیر سکون اور محبت سے بھرپور رات گزاری۔ ولیم فریزر (William Fraser) کہتاہے کہ سات سال کی شکست، اذیت اور قید کی ذلت نے شاہ پر کافی اثر ڈالا تھا۔ اس کے باوجود اس کی توقعات بلند تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے شاہانہ مرتبے کا خیال رکھا جائے۔ اگرچہ اس کی حیثیت ایک بھگوڑے شاہ سے زیادہ نہ تھی اور وہ مایوس کن صورت حال کا شکار تھا۔ پھر بھی اس نے اپنے اتحادی انگریز حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ اس کو ایک بہتر، فراخ اور محفوظ رہائش گاہ فراہم کی جائے۔اس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ زیادہ عرصہ یہاں قیام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ جلا وطنی کے مصائب اور کشمیر کی مہم میں شکست کے باوجود وہ ’’خراسان کی مملکت‘‘ کو دوبارہ فتح کرنے کے لیے مضطرب اور پر اُمید تھا۔ چناںچہ لدھیانہ آمد کے صرف ایک سال بعد وہ افغانستان پر حملے کا ایک اور منصوبہ تیار کر چکا تھا۔ 1817ء میں افغانستان کے دونوں بڑے قبائل سیدوزئی اور بارک زئی میں ایک خونی جھگڑا اُٹھ کھڑا ہوا۔ بارک زئی بھائیوں وزیر فاتح خان اور دوست محمد کو شاہ محمود نے ہرات کے باغی گورنر کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ یہ کام انھوں نے کامیابی سے سرانجام دیا۔ لیکن فتحکی خوشی میں لوٹ مار کے دوران انھوں نے ہرات میں سیدوزئی حرم کوبھی لوٹ لیا اور ایک شہزادی کو بے آبرو کر دیا۔ یہ بات وہ بھول گئے کہ وہ شہزادی شاہ محمود کی بھتیجی تھی۔ اس پر شاہ محمود کے بیٹے پرنس کامران نے ہرات پہنچ کر ایک عظیم الشان دعوت کا اہتمام کیا جس میں اوروں کے علاوہ بارک زئی بھائیوں کو بھی مدعو کیا۔ دعوت میںشراب و کباب کا وسیع بندوبست کیا گیا تھا۔ جب بارک زئی بھائی زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے ہوش و حواس کھو بیٹھے تو وزیر فاتح خان کے ہاتھ پائوں باندھ دیے گئے۔ پہلے اس کی آنکھوں میں نوکدار ہتھیار چبھوئے گئے۔ پھر اس کے کان، ناک اور پائوں کاٹ دیے گئے۔ آخر میں اس کا سر تن سے جُدا کر دیا گیا۔ پایندہ خان کے بعد بارک زئی قبیلے کا یہ دوسرا قتل تھا جو سیدوزئی حکمرانوں کے ہاتھوںہوا۔ وزیر فاتح خان کے بھائیوں نے شاہ محمود سے انتقام لینے کی غرض سے اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ شاہ شجاع ایسے ہی کسی موقع کے انتظار میں تھا۔ اس نے وفا بیگم کے مالی تعاون سے ایک کرائے کی فوج تیار کی اور کچھ کرایہ دار انگریز فوجی افسروں کو بھی ساتھ ملایا۔ یہ گورکھا فوج شاہ شجاع کی قیادت میں سندھ کے شہر شکارپور کے لیے روانہ ہوگئی۔ وہاںشجاع نے ہندو ساہو کاروں سے قرض لیا، مزید فوجی دستے تیارکیے اور چند ہفتوں میں اپنے پرانے مرکز پشاور پر قبضہ کر لیا۔ تاہم اس کے متکبرانہ رویے اور شاہانہ شان و شوکت اور روایتی درباری آداب پر اصرار کے سبب علاقے کے قبائلی راہنما اس کے خلاف ہوگئے اور جلد ہی ان کے اور شجاع کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ ایک گولا، بارود کے شاہی ذخیرے پر آ گرا اور زبردست دھماکے کے ساتھ سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا۔ اس کے فوجیوں کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے اور شاہ کو بھاگ کر خیبر کے پہاڑوں میں پناہ لینا پڑی۔ طاقتور بارک زئی بھائیوں نے اس کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ واپسی کے دوران سندھ کے صحرا میں ریت کے طوفان نے اس کی فوج میں مزید تباہی پھیلا دی۔ لدھیانہ واپس پہنچ کر شاہ شجاع نے ایک پرشکوہ عمارت میں روزانہ اپنا دربار لگانا شروع کر دیا۔ اکثر وہ روایتی جلوس میں چوبداروں اور شاہ کی آمد کا اعلان کرنے والے خدمت گاروں کے جلوس میں غیر حاضر عوام کے سامنے فرضی بادشاہت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزرتا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے اس درباری سرکس کو برداشت کرتے ہوئے 50,000روپے کا سالانہ وظیفہ بھی ادا کیا جاتا تھا۔ ایک مورخ نے گھریلو خدمت گاروں اور خادمائوں پر شاہ شجاع کے مظالم کا بھی ذکر کیا ہے۔ اکثر ان کی کسی غلطی پر ان کے کان، ناک یا کوئی اور عضو کاٹ دیا جاتا تھا۔ ایک مسلمان افریقی غلام خواجہ مائیکا کو غلطی کی پاداش میں اس کے مردانہ عضو سے محروم کر دیا گیا۔ اب یہ مخنث شاہ کے افرادِ خانہ کا انچارج تھا۔ وسطی ایشیا کا ایک سیاح گاڈفرے کہتا ہے کہ شاہ ایک سلیم الفطرت شخص تھا۔ اس نے اپنے متعلقین کے لیے اسکول بھی قائم کر رکھا تھاجس میں تین ہزاربچے زیرِ تعلیم تھے۔ 1834ء میں شاہ شجاع نے افغانستان کا تخت حاصل کرنے کی ایک اور ناکام کوشش کی۔ اس تیسری شکست کے بعد بھی شجاع کی اہمیت انگریز حکمرانوں کے لیے کم نہ ہوئی کیونکہ افغانستان میں روس کے غلبے کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کو ایک طاقتور مہرے کی حیثیت حاصل تھی۔ انیسویں صدی کے اوائل میں روس اور برطانیہ کے درمیان گریٹ گیم (Great Game)کا آغاز ہوچکا تھا۔ برطانیہ ہندوستان پر روس کے ممکنہ حملے سے بچائو کے لیے افغانستان میں اپنی اتحادی حکومت چاہتا تھا جبکہ روس جنوب مغربی ایشیا میں توسیع کے لیے افغانستان کو اپنے زیرِ اثر رکھنے کا متمنی تھا۔ جب روسی حکومت نے کیپٹن وکی وچ کو 1838ء میں سفیر بنا کر کابل روانہ کر دیا۔ کابل میں روسی سفیر کی آمد نے برطانوی حکومت کو روس کے خوف (Russophobia) میں مبتلا کر دیا۔ برطانوی کرنل ڈی لیسی ایونز(Col. De Lacy Evans) کی کتاب ’’برطانوی ہند پر حملے کا امکان‘‘ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ برطانیہ کے وزیر ہند لارڈ ایلن (Lord Ellenoroug)نے کہا، ’’ایشیا میں ہماری پالیسی کا ایک ہی ہدف ہے اور وہ ہے روس کی پیش قدمی کو روکنا۔‘‘ ان حالات میں ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ آک لینڈ(Lord Aukland)نے افغانستان میں اپنی حامی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور 1839ء میں افغانستان پر قبضہ کر کے جلا وطن شاہ شجاع کو تخت پر بحال کر دیا لیکن افغانستان پر برطانیہ کے قبضے کے صرف دو سال بعد پورے ملک میں مزاحمت اور بغاوت نے سر اُٹھا لیا۔ بالآخر 1842ء میں برطانوی فوج کو شکست کی ذلت اُٹھا کر کابل سے پسپا ہونا پڑا۔ پسپا ہوتی ہوئی ساری برطانوی فوج کو پہاڑی دروں میں گھات لگا کر افغان مزاحمت کاروں نے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اس طرح برطانیہ جیسی عالمی طاقت کو افغانستان میں تباہ کن ہزیمت کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ اپریل 1842ء کو شاہ شجاع کو قتل کر دیا گیا اور امیر دوست محمد خان نے دوبارہ اقتدار سنبھال لیا۔ اس طرح افغانستان سے برطانیہ کے عمل دخل کا خاتمہ ہوگیا۔ افغانستان میں شاہ شجاع کو انگریزوں کا پِٹھو اور افغان قوم کا غدار سمجھا جاتا ہے۔ 1837ء میں کابل میں مقیم برطانوی سفیر الیگزینڈر برنس اس بات سے مکمل طور پر بے خبر تھا کہ افغانستان کے امیر دوست محمد خان اور پنجاب کے مہاراجا رنجیت سنگھ کے درمیان اس کی مصالحانہ کوششوں کو سبو تاژ کیا جا رہا تھا اور یہ کام کوئی اور نہیں ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ آک لینڈ (اصل نام جارج ایڈن) کے ہاتھوں انجام دیا جا رہا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب دوست محمد کی خواہش اور درخواست پر روس اور افغانستان کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کیے جا رہے تھے اور روسی سفیر کیپٹن وِکی وچ کابل پہنچنے ہی والا تھا۔ لارڈ آک لینڈ کلکتہ سے اندرونِ ملک اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوچکا تھا۔ پروگرام کے مطابق اکیاون سالہ مصدقہ کنوارے گورنر جنرل کا قافلہ ریاست اَودھ اور پنجاب سے گزرتے ہوئے نئے پُرفضا پہاڑی قصبے شملہ کے لیے روانہ ہوا۔ یہ سفر کلکتہ سے بنارس تک دریائے گنگا کی لہروں پر ایک بڑی شاہانہ کشتی اور اسٹیمر میں اور اس سے آگے گاڑیوں، پالکیوں اور ہاتھیوں پر طے کیا جانا تھا۔ گورنر جنرل کے قافلے میں اس کی دو غیر شادی شُدہ بدمزاج بہنیں ایملی اور فینی ایڈن، اس کا ملٹری سیکرٹری ولیم آسبورن، پولیٹکل سیکرٹری ولیم میک نیگٹن اور اس کی حاکم مزاج بیوی جس کے ہمراہ اس کی ایرانی بلی، سرخ رنگ کا طوطا اور پانچ آیائیں بھی شامل تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی کشتیوں میں850اونٹ، 140ہاتھی اور سیکڑوں گھوڑے بھی ہمراہ تھے۔ گورنر جنرل کے محافظ دستے، فوجیوں کی رجمنٹ اور خادموں کی تعداد 12000تھی۔ گورنر جنرل ایک قابل اور ہوشیار لیکن خاموش طبع وہگ(Whig)سیاست دان تھا۔ وہ دبلے پتلے نازک جسم، لڑکوں جیسے چہرے، باریک ہونٹوں اور لمبی انگلیوں کا مالک تھا۔ وہ برطانوی سیاست سے خائف، کمزور مقرر اور ہندوستان کی تاریخ و تہذیب سے قطعی نابلد تھا۔ ہندوستان پہنچ کر اس نے اس ملک اور اس کے باشندوں کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی۔ وہ متوسط طبقے کے سرمایہ دارانہ ذہنیت رکھنے والے ہندوستانی سرکاری افسروں اور مؤدب، خوشامدی راجائوں سے متنفر اور بوریت کا شکار تھا۔ وہ اپنے ماتحتوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا تھا اور فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ کسی بھی بحران کی صورت میں ماتحت افسروں کو فیصلے خود کرنے پڑتے تھے۔ اس نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو اس حد تک اختیارات دے رکھے تھے کہ کونسل کی میٹنگ میں بحث کا آغاز اور اختتام وہی کرتا تھا۔ جبکہ گورنر جنرل صرف خاموشی سے سنتا تھا۔ اس وجہ سے چھوٹے سرکاری افسر اس کو ہی گورنر جنرل سمجھتے تھے۔ ہندوستان پہنچتے ہی وہ میک نیگٹن کی قیادت میں روس کی فوجی طاقت سے مرعوب اور خوفزدہ افسروں کے نرغے میں گھر گیا۔ ولیم آسبورن کی رائے میں لارڈ آک لینڈ کے لیے برطانوی ہندوستان کے گورنر جنرل کا عہدہ غیر موزوں اور غیر فطری تھا۔ اس کو دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کی طرف سے دس کروڑ عوام کے ملک ہندوستان پر حکومت کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا جس کا وہ ہرگز اہل نہیں تھا۔ سفر کے حالات بیان کرتے ہوئے ایملی کہتی ہے ’’بے شمار ملازمین، مناظر اور دریائے گنگا کی خوب صورتی کے باجود سفر بہت سُست رفتار اور بورنگ تھا۔ ہم بے شمار کشتیوں میں گھرے ہوئے ہیں جن پر سیاہ فام آدمی سوار ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ غیر ارادی طور پر کپڑے پہننا بھول گئے ہیں۔‘‘ وہ گورنمنٹ ہائوس کے سخت رسمی تکلفات اور نوکروں کے ہجوم سے خوفزدہ ہوتی ہے اور اپنی اس زندگی کو سرکس سے مشابہ قرار دیتی ہے۔ فینی لارڈ آک لینڈ کے پولیٹکل سیکرٹری میک نیگٹن اور اس کے اہلِ خانہ سے بہت بیزار ہوتی ہے۔ جب بکسر کے مقام پر آک لینڈ نے کشتی رکوائی اور چھلانگ لگا کر ساحل پر اُتر گیا تاکہ وہ اس میدانِ جنگ کو دیکھ سکے جہاں انگریزوں نے مغلوں کو پہلی شکست دی تھی تو میک نیگٹن پروٹوکول کی خلاف ورزی پر غصے سے نیم پاگل ہوگیا۔ اگلے دن غازی پور کے مقام پر میک نیگٹن کے قانون کو ایک اور دھچکا لگا جب ایڈن فیملی کے افراد کسی محافظ کے بغیر ساحل پر اُتر گئے۔ ایملی میک نیگٹن کے بارے میں لکھتی ہے ’’وہ ایک ہوشیار، سمجھدار لیکن خشک مزاج آدمی کی شہرت رکھتا ہے اور نیلے رنگ کی بہت بڑی عینک پہنتا ہے۔ وہ انگریزی کے مقابلے میں فارسی زیادہ روانی سے بولتا ہے۔ فارسی سے بہتر عربی بولتا ہے لیکن بے تکلف گفتگو کے لیے سنسکرت کو ترجیح دیتا ہے۔ بیگم میک نیگٹن اس کوشش میں مصروف رہتی ہے کہ اس کی ایرانی بلی اس کے طوطے کو نہ کھا جائے۔ ایک آیا صرف اس پرندے کی حفاظت اور اس کو دانہ دنکا کھلانے پر مامور تھی۔ ایک رات چور بیگم میک نیگٹن کے خیمے میں گھس گئے اور اس کے تمام ملبوسات چرا کر لے گئے حتیٰ کہ میک نیگٹن نے اپنی بیگم کو ایک کمبل میں چھپا کر بنارس بھیجا تاکہ وہ نئے کپڑے بنوا سکے۔‘‘ دریائے گنگا کے ساتھ ساتھ وقفے وقفے سے رسمی دربار منعقد کیے جانے تھے۔ ان درباروں میں فینی کے لیے میک نیگٹن کا رویہ ناقابلِ برداشت ہوتا تھا۔ اس کے بقول اس کے کام کا وہ حصہ پر لطف ہوتا تھا جب وہ اپنے سخت بے حِس چہرے کا کوئی پٹھا ہلائے بغیر کمال سنجیدگی سے ہر لفظ کا ترجمہ کرتا تھا۔ وہ کہتا ہے: ’’میرے آقا! آپ ہی اس کے مائی باپ ہیں، اس کے چچا اور چچی ہیں، آپ ہی اس کے لیے دن اور رات ہیں اور آپ کے سوا اس کا کوئی سہارا نہیں‘‘گلاب کا عطر چھڑکنے کی تمام رسومات بھی وہ اسی سنجیدگی اور متانت سے ادا کرتا ہے۔ میں نے کوئی اور شخص نہیں دیکھا جو پیدائشی طور پر اس کام کے لیے اس سے زیادہ موزوں ہو۔ بعد میں ایک عمر رسیدہ رانی سے اس کے محل میںملاقات کے دوران میک نیگٹن کمال سنجیدگی سے جواب کا یوں ترجمہ کرتا ہے:’’میرے آقا! رانی کہتی ہے کہ وہ اس مسرت کو بیان نہیں کر سکتی جو اسے اس کے گھر میں آپ کی تشریف آوری سے حاصل ہوئی ہے… وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کی حیثیت ہاتھی کے مقابلے میں چیونٹی کی سی ہے۔‘‘ بیگم میک نیگٹن جو حقیقت میں مقامی زبان کو نہیں سمجھتی، میرے اور فینی کے لیے مترجم کا کام کرتی ہے۔ ’’اوہ! یہ عورت تو مجھے پریشان کر دے گی۔سفر کے آغاز ہی سے لارڈ آک لینڈ، اس کی ہمشیرگان اور ان کے مہمان اس دورافتادہ نو آبادی کے باشندوں کے لیے شاہانہ سرپرستی کے ساتھ فرحت بخش نفرت محسوس کرتے رہے۔ وہ سب کے سب ایک قسم کی بوریت کا شکار تھے۔ سفر کی رفتار توقع سے زیادہ سُست تھی۔ گورنر جنرل خیمے کی زندگی سے تنگ آ کر بائولا ہوتا جا رہا ہے اور ہر صبح مجھے ملامت کرتا ہے کہ منظر خوب صورت نہیں ہے۔ ہمیں صرف دریا کے ساتھ آگے آنے والی کچھ پارٹیوں کا اِمکان خوش کن محسوس ہو رہا ہے۔ ایک ڈانس پارٹی کی دعوت ہم تک پہنچ چکی ہے میں تصور کرتی ہوں کہ ان ڈانس پارٹیوں کا تسلسل ہمالیہ کے پہاڑوں تک جاری رہے گا۔ میرا خیال ہے کہ اگر جارج ڈانس کرنا سیکھ لے تو نہایت مناسب ہوگا۔ اسی اثنا میں محکمۂ خوراک کے ساتھ مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ جنرل کیسمنٹ اور میک نیگٹن آج شام کشتی پر آئے۔ ہمارا خیال ہے کہ ناشتے میں سیب کی جیلی خراب تھی۔ مسٹر میک نیگٹن نے اس کی طرف مبہم سا اشارہ کیا تھا لیکن جنرل کیسمنٹ نے مسئلے کو شروع ہی میں دبا دیا۔ لارڈ آک لینڈ افغانستان کے بارے میں ہندوستان سے بھی کم علم رکھتا تھا اور شروع ہی سے وہ افغانستان کے سب سے طاقتور حکمران دوست محمد خان کو ناپسند کرتا تھا باوجود یکہ آک لینڈ جونہی ہندوستان پہنچے دوست محمد خان نے ان کو خط بھیجا اور اپنی دوستی اور وفاداری کا یقین دلایا۔ اس کے ساتھ اس نے یہ درخواست بھی کی کہ گورنر جنرل اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے رنجیت سنگھ سے پشاور کا قبضہ چھڑوائیں تاکہ اس خطے میں امن قائم ہوسکے۔ لیکن اس سے قبل میک نیگٹن گورنر جنرل کو آمادہ کر چکا تھا کہ افغانستان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہ کیا جائے۔ چناں چہ آک لینڈ نے کئی ماہ کے بعد خط کا جواب دیا اور اس میں دوسری ریاستوں کے معاملات میں مداخلت کرنے سے معذرت کرلی۔ دراصل دوست محمد کے ساتھ اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ محکمانہ سیاست اور حاسدانہ کارروائیاں تھیں۔ افغانستان کے بارے میں تمام تر معلومات میک نیگٹن اور ویڈ کے ذریعے گورنر جنرل تک پہنچتی تھیں۔ جن میں سے کسی نے بھی کبھی افغانستان نہیں دیکھا تھا۔ برنس، افغانستان کے حالات اور امیر دوست محمد خان کی طاقت اور مقبولیت کا براہِ راست عینی شاہد تھا۔ لیکن اس کے حقیقت پسندانہ مشوروں پر ویڈ اور میک نیگٹن اپنے متعصبانہ اور حاسدانہ تبصروں کا رنگ چڑھا کر گورنر جنرل کو پیش کرتے تھے۔ اس طرح گورنر جنرل افغانستان کے زمینی حقائق سے مکمل طور پر بے خبر تھا۔ ویڈ اور میک نیگٹن لدھیانہ میں مقیم معزول شاہ شجاع کو افغانستان کے تخت کا اصل حقدار سمجھتے تھے اور دوست محمد کو ایک غاصب لیکن کمزور حکمران قرار دیتے تھے۔ جبکہ حقائق اس کے بالکل برعکس تھے۔ دوست محمد نے ہندوکش سے خیبر تک اپنے اقتدار کو مستحکم کر لیا تھا۔ اس کو متفقہ طور پر افغان جہاد کا راہنما اور امیر تسلیم کیا جا چکا تھا۔ برنس کی رائے میں وہ برطانوی حکومت کا سب سے طاقتور حامی اور اتحادی ثابت ہوسکتا تھا اگر کلکتہ کا گورنرجنرل اس کو گلے لگا لیتا۔ اسی اثنا میں ویڈ اپنی رپورٹوں میں گورنر جنرل آک لینڈ کو قائل کر رہا تھا کہ شجاع کو افغانستان کے تخت پر بحال کیا جائے۔ اس کی دلیل تھی کہ اس طرح خون خرابہ کم ہوگا اور دوسری طاقتوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی اچھے رہیں گے۔ نیز دوست محمد اور سکھوں کے تصادم کے بعد کابل میں حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ شاہ شجاع دو ماہ کے اندر کابل اور قندھار کا مالک بن سکتا ہے۔ لیکن ویڈ یا میک نیگٹن نے آک لینڈ کو یہ نہیں بتایا کہ رنجیت سنگھ نے حال ہی میں پشاور پر قبضہ کیا تھا اور یہ کہ دارالحکومت پشاور افغانوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتا تھا۔ اس لیے آک لینڈ نے یہ غلط مؤقف اختیار کر لیا کہ یہ شہر واضح طور پر سکھوں کی ملکیت ہے اور دوست محمد کا مطالبہ نامناسب اور ناجائز ہے۔ آک لینڈ نے ویڈ کے اس مؤقف کے ساتھ بھی اتفاق کر لیا کہ ہماری سرحد پر ایک طاقتور اسلامی ریاست ہمارے لیے خطرہ بن سکتی ہے جبکہ افغان اور سکھ اگر طاقت کا توازن قائم رکھیں اور ہماری دوستی کے خواہش مند رہیں تو ایسے ہمسائے ہمارے لیے کہیں زیادہ قابلِ ترجیح ہیں۔ اس طرح یہ آک لینڈ اور اس کے عقابی مشیروں کی اجتماعی غلطی تھی جس کا ارتکاب انھوں نے کیا۔ برنس واضح طور پر دیکھ رہا تھا کہ دوست محمد کی دوستی کو نظر انداز کرنا ایک سفارتی تباہی ثابت ہوگی۔کیونکہ اس صورت میں روس اور ایران یہ خلا پُر کر دیں گے اور افغانستان کے ساتھ مل کر برطانیہ مخالف اتحاد قائم کر لیں گے۔ برنس نے آخری کوشش کے طور پر آک لینڈ کو ’’کابل کے سیاسی حالات‘‘ پر ایک طویل رپورٹ بھیجی۔ اس نے لکھا کہ ہم افغان اور سکھ دونوں حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔ لیکن عین اس وقت کلکتہ میں میک نیگٹن، ویڈ کے اس منصوبے کی حمایت کر رہا تھا کہ برطانیہ، پشاور پر سکھوں کے قبضے کی حمایت کرے گااور ایک منقسم افغانستان میں کمزور شاہ شجاع کو امیر دوست محمد کی جگہ بحال کیا جائے گا۔دسمبر کے مہینے میں روسی مشیروں کے ہمراہ بھاری ایرانی افواج ہرات پر حملہ آور ہوگئیں۔ انھوں نے بھاری توپخانے کی مدد سے قلعے کی دیواروں کو منہدم کر دیا اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ ہرات کے سیدوزئی حکمران کامران شاہ نے خوراک اور چارے کا ذخیرہ کر لیا اور اپنی فوج کے دستے شہر کے چاروں طرف متعین کر دیے۔ ادھر کابل میں روسی سفیر کیپٹن وِکی وِچ امیر کے دربار میں قیمتی تحائف اور بھاری رقم کے ساتھ پہنچ چکا تھا۔ برنس پریشان تھا اور اس کے پاس دوست محمد کے لیے نہ کوئی تحفہ تھا نہ مدد کی پیشکش۔اس نے لارڈ آک لینڈ کو براہِ راست ایک خط لکھا اور اس کو قائل کرنے کے کوشش کی کہ یہ آخری موقع ہے کہ برطانیہ افغانستان کو اپنا اتحادی بنا کر روس اور ایران کا راستہ روک سکتا ہے۔ لیکن بے سود۔ وِکی وِچ گریٹ گیم کی سفارتی جنگ جیت چکا تھا۔ افغانستان میں برطانیہ کا مستقبل تاریک ہوتا دیکھ کر برنس نے دوست محمد کو الوداع کہا اور میسن اورموہن لال کشمیری کے ساتھ کابل سے رختِ سفر باندھ لیا۔ برنس نے پشاور پہنچ کر مزید ہدایات کا انتظار کیا۔ اس دوران وِکی وِچ قندھار پہنچ چکا تھا جہاں اس نے دوست محمد کے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ ایک معاہدے پر گفت و شنید کی۔ آک لینڈ کے انکار کے بعد اب وہ بھی روس، ایران، افغانستان اتحاد کا حصہ بننے کے لیے آمادہ تھے۔ اس کے بعد وہ ہرات پہنچا جہاں ایرانی کیمپ میں روسی سفارت کار سمونیچ نے اس کا استقبال کیا۔ وِکی وِچ نے روس اور ایران کے لیے جو عظیم سفارتی خدمات انجام دیں وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں۔اس نے برطانوی سفارت کاری کو مکمل شکست دے دی تھی۔ ان خدمات کے اعتراف میں شاہِ ایران نے اسے Order of the Lion and the Sun کا اعزاز عطا کیا۔ برنس دل شکستہ تھا لیکن آک لینڈ کے منصوبے کے مطابق دوبارہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے پُرعزم تھا۔ برنس تین سال بعد دوبارہ کابل آئے گا اور دوست محمد سے ملے گا لیکن یکسر مختلف حالات میں۔گورنر جنرل کا قافلہ شملہ پہنچ چکا تھا۔ آک لینڈ اور اس کی بہنوں کو یہ جگہ پسند آئی۔ ایملی نے اپنی ڈائری میں لکھا: ’’یہاں کا موسم انگلستان کے موسم جیسا اور فرحت بخش ہے۔ سفر کی صعوبتیں اس کے مقابلے میں کچھ اہمیت نہیں رکھتیں۔ اتنی خوب صورت جگہ… مغرب میں ڈرائننگ روم کے ساتھ گہری وادیاں اور ڈائننگ روم کی طرف جہاں میرا کمرا بھی ہے برف پوش چوٹیاں۔‘‘ اس دور میں شملہ کی موجودگی ہندوستان میں انگریزوں کے حیران کن اطمینان کا ایک بڑا سبب تھا۔ سال کے سات ماہ کمپنی کے گورنر جنرل تبّت کی سرحد پر اس ہمالیا ئی گائوں سے بنی نوع انسان کے پانچویں حصے پر حکومت کرتے تھے۔بیرونی دنیا کے ساتھ اس کا رابطہ ایک معمولی سی پگڈنڈی نما سڑک کے ذریعے قائم تھا۔ 1822ء میں یہ جگہ دریافت ہونے کے بعد کمپنی نے دو عشروں سے اس طویل، تنگ پہاڑی پٹی پر تعمیرات شروع کر رکھی تھیں۔ اپنے تصور کے مطابق وکٹورین طرز کا ایک ’انگلستان‘ جسے گوتھک طرزِ تعمیر کے گرجا گھروں، پتھر اور لکڑی کے مکانات اور رئیسانہ اسکاٹش محلات سے مکمل کیا گیا تھا۔ شملہ صرف جلاوطنی میں ماضی اور گھر کی یادوں سے بچنے کا ذریعہ نہ تھا بلکہ یہ ہندوستان کی گرمی، باغیانہ ہنگاموں اور بلووں سے فرار اور پناہ کی بہترین جگہ تھی۔ شملہ میں صرف پولو کے فائنل مقابلوں، گھڑ دوڑوں اور کرکٹ کے ٹورنامنٹس کی باتیں ہوتی تھیں۔شملہ پہنچنے کے بعد لارڈ آک لینڈ نے اپنی توجہ کو پہلی دفعہ سنجیدگی سے افغانستان کے مسئلے پر مرکوز کیا۔ اس کی ایک وجہ پشاور اور ہرات سے موصول ہونے والی تازہ رپورٹس بھی تھیں۔ اب اس کو روس کے افغانستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش لاحق ہوئی۔ شاہ ایران ہرات پر قبضہ کرنے ہی والا تھا اور وہ برطانوی سفیر کو مکمل طور پر نظرانداز کر رہا تھا۔ آک لینڈ اس صورت حال پر ایک بڑے ردِعمل کے لیے تیار ہوگیا۔ وہ افغانستان کے امیر دوست محمد کو اس کی گستاخی کی سزا دینا چاہتا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ اگر وہ آک لینڈ کی خواہشات کے مطابق تعاون نہیں کرتا تو اس کی مسند پر شاہ شجاع کو بحال کرنا ضروری ہوجائے گا۔آک لینڈ کو یقین تھا کہ شاہ شجاع اس کی ہدیات پر پوری طرح عمل کرے گا۔ چناں چہ ابتدائی اقدام کے طور پر اس نے شاہِ ایران کو وارننگ دینے کے لیے اپنے بحری بیڑے کو بمبئی سے خلیج فارس میں شیراز کے ساحل پر پہنچنے کا حکم دے دیا۔ اسے اُمید تھی کہ رنجیت سنگھ اور شاہ شجاع سرکش افغان امیر کو راہِ راست پر لانے کے لیے کافی ہوں گا اور خود اسے کوئی جنگی اقدام نہیں کرنا پڑے گا۔ایملی نے انگلستان میں اپنی بہن کو خط میں لکھا ’’ہم جب بھی اپنے ہمسایوں کو اچھا رویہ اختیار کرنے کے لیے ڈرانا دھمکانا چاہتے ہیں، ہمارے پاس یقینی وسائل موجود ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس ہمیشہ بڑی تعداد میں متفرق دعویدار موجود ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں نکالی جاچکی ہوتی ہیں یا ان کے بیوی بچے یرغمال ہوتے ہیں یا غاصب ان کا اپنا بھائی ہوتا ہے یا وہ اسی قسم کے دوسرے مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لیکن وہ ہمارے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ہمارے پاس شاہ شجاع ہے جو دوست محمد پر جھپٹنے کے لیے تیار ہے۔ اگر وہ اپنا رویہ ٹھیک نہیں کرتا اور اس قسم کی کسی بھی مہم میں رنجیت سنگھ ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔‘‘ آک لینڈ نے لندن میں حکومت کو رپورٹ بھیجی ’’میں اس بات کا جائزہ لے رہا ہوں کہ رنجیت سنگھ کے ساتھ مل کر شاہ شجاع کی مدد کی جائے اور مشرقی افغانستان پر اس کی خود مختار حاکمیت قائم کر دی جائے۔ اس اقدام سے سکھ حکمران کو مصالحت کا پابند کیا جائے گا اور بحال کردہ بادشاہ بھی ہمارے مفادات کے تحفظ کا پابند ہوجائے گا۔‘‘
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Protected contents!