منډيګک
افغان تاريخ

رحمان بابا

0 111
پشتو کے عظیم صوفی شاعر عبد الرحمن(1632-1711ء) مہمند قبیلے کی ایک شاخ غوریہ خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ پشاور کے قریب بہادر کلی میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے معتبر علما سے فقہ اور تصوف کی تعلیم حاصل کی۔ پشتون شاعری کے حافظ شیرازی کہلاتے ہیں۔ آ پ کا کلام تصوف کے رموز و عوامض سے مملو ہے۔ مجموعہ کلام دیوان کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں پانچ ہزار کے قریب اشعار ہیں۔ مزار پشاور کے جنوب میں ہزار خوانی کے مقام پر واقع ہے۔
پشتو کے نامور شاعر عبدالرحمان جنہیں عقیدت سے پشتون رحمان با با کے نام سے یاد کرتے ہیں پشتونوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے صوفی شاعر ہیں۔ رحمان با با سنہ سولہ سو پچاس میں پیدا ہوئے تھے اور سترہ سو پندرہ میں وفات پاگئے تھے۔
ابتدائی حالات
پشتو کے عظیم صوفی شاعر رحمان باباؒ ایک غریب گھرانے میں پیداہوئے تھے۔ آپ ؒکے ابتدائی حالات کی زیادہ تفصیل نہیں ملتی۔ البتہ کہا جاتا ہے کہ آپ خوشحال خٹک کے ہم عصر تھے۔ آپ ؒکا اصل نام عبد الرحمن تھا لیکن رحمان باباؒ کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ ؒنسلاً مہمند قبیلے کی ایک شاخ غوریہ خیل سے تعلق رکھتے تھے، آپؒ کے والد کا اسم گرامی عبد الستار تھا جو ایک روایت کے مطابق اپنے علاقے کے ایک متمول خان تھے جو بہادر کلی میں رہتے تھے۔ یہ گاؤں پشاور سے جنوب کی طرف پانچ میل کے فاصلے پر اُس سڑک پر واقع ہے جو کو ہاٹ کو جاتی ہے۔ رحمان باباؒ کی ولادت لگ بھگ 1042ہجری بمطابق 1632ء میں پشاور کے قریب بہادر کلی میں ہوئی۔ آپؒ نے ملّامحمد یوسف زئی سے تصوف وفقہ کی تعلیم حاصل کی پھر کوہاٹ تشریف لے گئے اور وہاں کے مختلف علما سے تعلیم حاصل کی۔ آپ ؒجوانی ہی سے زہدوریاضت کی طرف مائل تھے اور دنیا اور اہل دنیا سے ابتداہی سے بے نیاز تھے۔ عبد الرحمان نوجوانی ہی میں فقیری اور تصوف کی طرف مائل تھے۔ علم دین حاصل کی۔ اس لیے بڑے خان کا یہ بیٹا ملا اور صوفی کہلایا۔ آپ اسلامی تعلیمات کے بڑے عالم اور متقی انسان تھے یہی وجہ ہے کہ پشتونوں میں ان کا بہت احترام رہا ہے اور اسی احترام کی وجہ سے انہیں ’’بابا‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس آرٹیکل کے ابتداٸ سطر میں لکھا ہے کہ بابا ” ایک غریب گھرانے میں پیداہوئے تھے“ پھر آگ لکھا ہے ”آپؒ کے والد کا اسم گرامی عبد الستار تھا جو ایک روایت کے مطابق اپنے علاقے کے ایک متمول خان تھے“ تو متمول خان غریب گھرانے سے ہوتا ہے کیا؟
شاعري:

آپ کی شاعری کو پشتو شاعری میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ آپ ایک بہترین فلسفی تھے، آپ نے ہر قسم کے علم اور فلسفہ کو اپنی شاعری میں بیان کرنے کی بہترین کوشش کی ہے۔ آپ پشتو صوفیانہ شاعری کے بادشاہ ہیں۔ اگرچہ آپ کی بہت سی شاعری اس وقت کے نامساعد حالات کی نذر  ہو چکی ہے پھر بھی پانچ ہزار اشعار پر مشتمل آپ کے کلام کا مجموعہ دیوان کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ کہتے ہیں اب تک وہ درخت موجود ہے جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر آپ اشعار لکھا کرتے تھے۔ آپ کی شاعری انسانیت، امن، اسلام اور  اخلاق حسنہ  کی درس پر مبنی ہے۔ چار صدیاں گزر جانے کے باوجود آپ کے  اشعار سُن کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ آج کے زمانے کے  کسی طاق شاعر نے موجودہ حالات و واقعات کو دیکھ کر اسی مناسبت سے لوگوں کی دینی و دنیاوی  رہنمائی کرنے کی خاطر ایک خوبصورت لڑی میں پروئی ہو۔ آپ کی شاعری میں ہر شخص کو اپنا آپ نظر آتا ہے لہٰذا کوئی بھی آپ کی شاعری سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ آپ کے عقیدت مند حضرات آپ کو پشتو شاعروں کا سلطان مانتے ہیں۔ انگریزی سمیت مختلف زبانوں میں آپ کے کلام کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔

شاعری
آپ کی شاعری کو پشتو کی اعلیٰ شاعری میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ مشہور پشتون شاعر اور بہادر جنگجو خوشحال خان خٹک کے هم عصر ہیں۔ اور آپ نے ہر قسم کے فلسفہ اور علم کو اپنی شاعری میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کا ایک شعر:
رحمان بابا لوگوں میں رحمان کے نام کے نام سے مشہور تھے اور ہے اس لیۓوہ کہتے ہیں
ما رحمان تہ چی رحمان وائی کافر دی
زہ رحمان دخپل رحمان عبد الرحمان یم
مجھ رحمان کو اگر کوئی رحمان کہے تووہ کافر ہے میں رحمان تو اپنے رب کا عبد الرحمان(اللہ کا بندہ)ہو ں-
نمومه اشعار

بابا اگر چہ اپنے وقت کے گوشہ نشین انسان تھے، لیکن وقت کے سیاسی حالات سے بھی بے خبر نہ تھے۔ آپ نے اورنگ زیب عالم گیر اور شاہ عالم جیسے مغل بادشاہوں کا زمانہ دیکھا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغلوں اور پٹھانوں کے درمیان سخت چپقلش جاری تھی، اور مغلوں نے پٹھانوں پر عرصۂ حیات تنگ کررکھا تھا۔ چناں چہ اس وقت کی سیاسی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
پہ سبب د ظالمانو حاکمانو
گور او اور او پیخور درے واڑہ یو دی

رحمان بابا کے مزار:

رحمان بابا کے مزار پشاور کے جنوب میں ہزار خوانی کے مقام پر واقع ہے۔

رحمان بابا کے مزار پشاور کے جنوب میں ہزار خوانی کے مقام پر واقع ہے۔

صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار پر حملہ

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم افراد نے پشتو کے ممتاز اور مقبول صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یکہ توت پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او زرولی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور کے نواح میں ہزار خوانی کے علاقے میں واقع رحمان بابا کے مزار کو جمعرات کی صبح تقریباً پانچ بجے نشانہ بنایا گیا۔

ان کے مطابق دھماکہ خیز مواد مزار کے گرد تعمیر شدہ عمارت کے چاروں ستونوں کے پاس رکھے گئے تھے جسکے پھٹنے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ان کے بقول انہوں نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کردی ہے البتہ اس سلسلے میں کسی کو گرفتار اور نہ ہی کسی کے ملوث ہونے کی نشاندہی ہوسکی ہے

مشہور صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار سے یاقوت اور مرجان سے مزین کتبہ چوری

رحمن بابا کے مزار سے سابق شاہ افغانستان ظاہر شاہ کا بھجوایا گیا کتبہ چوری ہوگیا.

ڈپٹی کمشنر پشاور ثاقب رضا نے اچانک رحمن بابا کے مزار کا دورہ کیا اور وہاں پر تعمیر ہونے والے کچھ غیر قانونی جگہوں کا مسماری کا حکم دیا، دورے کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ رحمن بابا کے مزار کے لیے افغانستان کے مرحوم بادشاہ ظاہر شاہ کا بھجوایا گیا کتبہ غائب ہے جو انھوں نے 1950میں بھیجا تھا جس پر ان مشہور شخصیات کی شاعری اور اقوال فارسی اور پشتو زبانوں میں درج تھے، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کتبوں کے ساتھ کچھ قیمتی پتھر بھی بطور تحفہ بھجوائے گئے تھے۔

رحمن بابا کے مزار پر باقاعدگی سے جانے والوں کے مطابق گلابی رنگ کے یاقوت اورگہرے ہرے رنگ کے مرجان بھی شاہ ظاہر شاہ کے بھجوائے گئے کتبے کے ساتھ نصب تھے جو بعد ازاں چوری ہوگئے لیکن کتبہ کئی دھائیوں تک مزار کی زینت رہا۔

ڈپٹی کمشنر ثاقب رضا نے ایکسپریس کو بتایا کہ انھوں نے اپنے دورے کے دوران نہ صرف مزارکے اردگرد بنائے گئے غیر قانونی تعمیرات کو مسمارکیا بلکہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مزار کے اردگرد صدیوں سے قائم 80 کنال سے زائد قبرستان کا رقبہ بھی سکڑ گیا اور لوگوں نے تعمیرات کر ڈالی ہیں، ڈپٹی کمشنرکو یہ بھی بتایا گیا کہ مزار پر نصب کتبہ بھی غائب ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کتبہ کب غائب ہوا۔

محمد جمشید باغوان

پير 3 اپريل 2017

رحمان بابا کا پورا نام عبدالرحمٰن ہے اور وہ 17 ویں صدی کے اوائل میں پشاور کے بہادر کلے کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مہمند قبیلے کی زیلی شاخ غوریا خیل سے تھا، جو پشاور کے گرد و نواح میں صدیوں سے آباد ہیں۔ اپنے ایک شعر میں رحمان بابا کہتے ہیں: نہ شی د خانانو د ملنگو سرہ کلے چرتہ عزیز خان چرتہ ملنگ عبدالرحمٰن (امیر اور فقیر کہاں دوست رہ سکتے ہیں۔ آپ ٹھہرے عزیز خان اور میں ملنگ عبدالرحمٰن)
رحمان بابا کے مزار

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Protected contents!