منډيګک
افغان تاريخ

قاضی ملا عبدالسلام اچکزئ؛ فن و شخصیت

پروفیسر نوراحمد فطرت اچکزئی

0 204
قاضی ملا عبدالسلام اچکزئی
( 1879 تا 1974 )
قاضی ملا عبدالسلام بابا 1879 عسیوی کو ضلع قعلہ عبدالللہ بمقام چمن خوجک شاخہ درہ میں پیدا ہوے قران مجید اور ابتدائی پشتو فارسی اور عربی کی تعلیم اپنے والد ملا حبش مرحوم سے حآصل کی اس کے بعد افغانستان کندھار میں دینی تعلیم پائی اور عربی فارسی ادب منطق فقہ اور علم حدیث میں کمال حاصل کیا اور مرحوم ابو الخیر زلاند کے کہنے کے مطابق تقرئبا (48) سال کی عمر میں اپنی سادہ ملگر پرسوز شاعری کا اغا کیا قاضی صاب پشتو کے ایک بڑے صوفی شاعرگزرے ہیں انکا درجہ پشتو شاعری میں بہت بلند ہیے علامہ عبدالعلی اخوندازدہ ۔ ملا قلندراچکزئی ۔ اور دوسرے اچھے شعراہ کے معاصر تھے زبان کی سادگی میں رحمان بابا اور دیگر بڑے بڑے لوگوں کے حریف ہیں دیوان( سوسن) چمن نہایت ضیخم ہیے اس میں اخلاق سیاست توحید کیفیات قلبی معاشرت اور واردات حسن وعشق سب کچھ موجود ہیں موصوف نے نظم بالخصوص غزل اور دوسرے اصناف میں پشتوں زبان وادب کی جو خدمت کی ہے وہ قابل فراموش ہے قاضی بابا کی ادبی تصانیف لائق ستائش ہیں مثلا سوسن چمن جلد اول جلد دوئم طلب مذہب اور اخری کتاب زردانہ ۔ وغرہ وغرہ ملا صاب کی شاعری اور اُنکی زندگی میں بڑی مطابقت ہے ملا عبدالسلام مرحوم نے اپنی پروقار شاعری میں زندگی کے ہر موضوع پر قلم اٹھایا ہے پشتو زبان وادب سے اپکو بےپناہ لگاو تھا اور ہمیشہ اس کی خدمت کرتے رہے ہیں ادب اور خاص طور سے پشتو غزل میں قاضی صاب نے اپنی جدت طبع سے نئی راہیں پیدا کی ہے قدما اور معاصرین کے انداز سے ہٹ کر ایک مختلف انداز ایجاد کیا ہیں گو وہ ایک نئی طرز کے موجد ہے انکا یہ رنگ اُونکی تمام شاعری میں نمایاں ہیں اس میدان میں وہ بلکل تنہا اُترے ہے سوسن چمن اور انکے دوسرے تصانیف میں ہر جگہ رنگین تبشہیں اور اشعارے بھی ہیں اور ظرافت کی چاشتی بھی سیاست بھی ہے اور اسلام سے ولولہ انگیز محبت بھی اپنی زبان ثقافت اور وطن سے عقیدت بھی مگر سب سنجیدگی کے زیور سے اراستہ ہیں زندگی کا کوئی نغمہ ایسا نہیں جو انکے کلام میں خوابیدہ یا بیدار نہیں انسان کی فطرت کی داستانیں قلب ملا عبدالسلام کی مشاہدات شوخی وظرافت سبھی کچھ موجود ہیں ملاعبدالسلام کے کلام کی ہف دلعزیز مقبولت یہی حرت انگیز تنوع ہیں ملا عبدالسلام کا کمال فن ہے کہ انکے کیسی شعر کو قاری مان لینے سے انکار نہ کرسکے البتہ انکے میٹے اشعار میں جانجا عربی فارسی کے الفاظ اکثر وبیستہ نظر آتے ہیں ان کی تمام تحریری مواد سادگی سے بھری ہوئی ہے مگر بہت موثر ملاسلام اپنے زمانے کے عوام کی روزمرہ کی زندگی کا آیئنہ دار ہے موصوف کو ہمارے پشتون مبصرین نے پشتو کا ملم الثبوت استاد مانا ہے ۔ خوشحال خٹک حمید بابا ۔ رحمان بابا ۔ عبدالغنی خان مرحوم اور حمزہ بابا کی طرح وہ عام طور پشتو ادب کے ایک بہت بڑے غزل گو شاعر سمجے جاتے ہیں جزبات کے اظہار میں انہیں غیر معمولی قدرت صاصل ہے غزل میں گہرائی اور وسعت پیدا کی ہیں اس قادرالعلام شاعر نے اپنی مثاہکار تصانیف کے ذرائعے پشتو ادب کے باغ و بہار میں گل بوٹے کہلاتے انداز استدلال فلسفیانہ ہح تخیل میں جدت اور فکر میں ندرت ہیے ویسے تو فن و شخصیت کے لحاظ سے قاضی ملا عبدالسلام اور خوشحال خٹک
میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے لیکن ایک موثر تحریک چلاتے اور اپبے مخالف سے نمٹنے کے لحاظ سے ان دونوں میں خاصا مماثلت مجود ہے فتض کیجئے اگر ایک طرف صاب قلم وتلوار (خوشحال خٹک ) نے جابر مغل بادشاہ محئ الدین اور نگزیب کے خلاف اپنا قلم اور تلوار اٹھایا اور ان سے کئ سال تک پشتونخوا وطن کے دروں (vallies) اور پہاڑوں میں کئی خونی معرکے سر کئے جنگ وجدل کیا اور فتوحات بھی انکے ہاتھ آئے بالاخر خوشحال بابا (1613 – 1688) اور انکے عزیز بیٹے گرفتار ہوئے اور ہندوستان کے مختلف جیلوں میں پابندی سلاسل بھی ہوئے تو دوسرے طرف قاضی ملاعبدالسلام اچکزئی اُن انگریز حکمران کے خلاف میدان عمل میں ایا اور ان پر اپنی انقلابی و مزاحمتی شاعری ہی کے ذرئعے تیر برسانے لگا جنکی سرحدوں میں سورج بھی غروب نہیں ہوتا تھا آپ نے 1930 عسیوی میں اپنی شاہکار کتاب (سوسن چمن) افغانستان کے سابق بادشاہ ( مرحوم غازی امان اللہ خان ) کے مدح صفت میں تحریرکیا مزکورہ ادبی مرقع میں آپ نے انگریزوں اور انکے ایجنٹوں کے خلاف صداحق بلند کیا اور انکے خلاف جہاد کا فتوا بھی دیا اور مخجر پرنگی پر الزامات کے بوجھاڑ بھی کردی ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ انگریز مکار ابلیس نہیں چاہتے کہ برصغیر اور دیگر دنیا کے مسلمان بالخصوص پشتون ملت آذاد ہوں انکا ایک الگ ثقافت ۔ دین اور شناخت ہو ملا صاب نے سوسن چمن اور اپنے دوسرے تصانیف کے اشعار کے ذرئعے مسلمانان عالم ( خصوصا پشتون قوم ) کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر اپ لوگ ایسے ہی
خواب خرگوش کے ہوتے رہے یعنی سوتے رہے تو پھر آپکو نہ تو اذادی کی حقیقی نعمت ملے گی نہ اپنا ثقافت نہ زبان اور نہ امن امان وغرہ وغرہ قاضی صاب نے پانی پت معرکہ کے سربراہ احمدشاہ بابا کے پوتے شاہ شجاع سے لیکر جناب امیر عبدالرحمن اور بچہ سقہ حبیب اللہ کلکانی تک سب کے سب کو انگریز مکار کے ایجنٹ قرار دئے ہیں اپ ڈیورنڈ معاہدے کے بھی خلاف واقع ہوا ہیں کیونکہ بقول قاضی موصوف کے کہ اس ناجائز معاہدے کی رو سے افغان ملت تقسیم ہوگی ہے اور اس سے افغان سرزمین بھی چھنی گئی ہے اپ برصغیر پاک ہند کے ذربدست حمایتی بھی رہے ہے اپ نے برصغیر میں تقسیم مسلمان کی مخالفت بھی کی تھی اور تحریک آذادی کے جانبازوں کساتھ اپنے مجھے اور انقلابی اشعار کے ذرئعے شانہ بشانہ بھی لڑے ہے اپ خدائی خدمتگار فخرافغان باچاخان اور خان شہید عبدالصمدخان کے بہت مداح بھی تھے آپکی شاعری میں تحریک اذادی کے ان عظیم سپوتوں کے جابجا تزکرے ملتے ہیں قاضی مرحوم نے سوسن چمن غازی امان اللہ خان اور کئی دوسرے مشہور حکمرانوں کے علاو غازی عبداللہ خان شہید کو بھی جگہ دیا ہے (غازی عبداللہ خان اچکزئی قعلہ عبداللہ کا رہنے والا تھا اور انکا قبر قابل میں ہے) اور غازی امین اللہ نے برطانوی سفر Allexandar Burnes کو قتل کیا تھا اور قعلہ پر دھاوابولا ڈاکٹر فیض اللہ پانیزئی کی تحقیق کے مطابق قلعے میں سولہ 16 ہزار انگریز فوجیوں کا محاصرے میں لیا ان میں سے صرف ایک ڈاکٹر برائیڈن بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اس جنگ میں غازی عبداللہ خان اچکزئی کے 2 بیٹے اور ایک بھائی شہید ہوا برطانوی حکومت نے (500) Rs روپت وظیفے پر غازی عبداللہ کے بیٹے تاج محمد خان کو سردار
بنانا چاہا مگر انہوں نے انگریز کی غلامی سے انکار کردیا اور کہا میری اور تمہاری دوستی کا کوئی اعتبار نہیں نہ میں غازی عبداللہ خان کو بھول سکتا ہوں اور نہ تم میگناٹن اور برنزکو جسکی بنا پر انہیں بھی جیل میں ڈال دیا گیا دیکھے ایک کتاب خان شہید عبدالصمدخان اچکزئی شخصیت علمی اور ادبی خدمات صفہ (11) قاضی صاب نے اپنے تاریخی نازک خیال رنگین مزاحیہ اور ہر دلعزیز اشعار کے ذرئعے نہ صرف افغان پشتون ملت کو اگے لانا چاہا بلکہ اپ مسلمان ملت و انسانیت کے بھی داعی رہے ہے اپنے اشعار کے ذرئعے انہوں نے انتہائی دوستانہ باتیں کئے ییں اور قوم و ملت کی اصلاح کی ہیں اسلے قاضی ملا عبدالسلام نہ صرف پشتو ادب میں بلکہ پوری بر صغیر میں ایک کامیاب ہیروز نظر اتے ہیں وہ مسلمانوں کی گری ہوئی حالت کو سدہارنا چاہتے تھے اس کیلے ساری زندگی صوبتں برداشت کئے ملا عبدالسلام اپنے وقت کے سب سے پر گو شعراء میں سے تھے عزلوں اور مثنویوں کی تعداد چالیس ہزار سے بھی زیادہ ہیں انکے علاوں اپ کے دیوان میں فارسی اور خال خال عربی کے اشعار بھی ملتے ہیں جن میں ملا صاب کی طباعی اور مختلف زبانوں پر قدرت کا اندازہ ہوتا ہے ( طلب مذهب ) جلد اول و دوئم کے اشعار تو ایسے ہیں جن میں دنیا کی بےثباتی عبرت انگیزی اور پند و نصائع کے مضامین ملتے ہیں بدحسن اشعار خالص وارداتی ہیں جسکی وجہ سے ان کے مضامین یا اشعار کا مطالعہ گراں نہیں گزرتا تاریخی ۔ عملی ۔ اخلاق ۔ سوشل ۔ پولیٹکل غرض ہر طرح کے مضامین میں سے حسب ضرورت شگفتہ ظرافت نظرآتی ہے.
اور اپنا آخری شعری مجموعہ ( زردانہ در ) جو کہ ایک ہزار اشعار پر مشتمل ایک ایک چھوٹا سا کتاب ہے یہ کتاب اپ نے مرحوم 1947 عسہوی کے دوران تحریر کی ہے مزکورہ کتاب میں اپ نے مسلم لیگ اور کانگریس کی بے وفائی کے تزکریے بھی کئے ہیں یہ مرقع اپ موصوف نےمثنوی یعنی چھوٹی چھوٹی بحروں میں لکھیی ہیں اپ نے مذکورہ کتاب میں اس طرح شعر کیلے ہیں جس طرح لوگ باتیں کرتے ہیں یہی وجہ کہ زردانہ در نے بھی انکے دوسرے کتابوں کی طرح پسند خاص اور قبول عام کی سند حاصل کی ہے مذکورہ بالا کتاب میں ملا صاب کا انداز بیان انکے دوسرے کتابوں کی طرح اس کتاب میں بھی قاضی صاب بابا نے کئی عبرت آموز اور اثر انگیز واقعات قلمبند کئے ہیں ملا صاب نے زردانہ در کی شاعری میں بھی کسی کی تقلید نہیں کی ہے بلکہ عام روشن سے ہٹ کر اپنا راستہ بنایا ہے اور ادائے مفہوم کیلے نادر اُسلوب اختراع کئے ہیں اسی وجہ سے قاضی صاب ملا عبدالسلام اپنے مخصوص اسلوب اور بیان کے بادشاہ کہلاتے واقعات کو اسطرح منظوم کیا ہیں کہ پڑھنے والے کو گویا اپنے دل ہی کی آواز معلوم ہوتی ہے بابا مرحوم نے اس کتاب میں بھی خیالات نازک اور مضامین اعلئی باندھے ہیں فارسی عربی کے نادر استہاروں اور افیا فتوں کو پشتو میں ملاکہ انوکھی ترکیبوں اور بندوشوں سے کلام کو مرصع کیا ہیں کہیں بلند پروازہ اور معنی افرینی سے مضامین کو اسمان پر پہنچادیا ہیں بابا نے کہیں سیدھی سادی زبان میں جزبات کا تلاطم اور درد کی داستان بیان کی ہے مگر ہر جگہ تناسب الفاظ
اور بر حبتاگئ کا خیال رکھا ہے ملاعبدالسلام کے کلام میں غزلوں کے علاوہ مثنویاں اور نظمیں بھی ہے ان کی کی مثنویاں تیرونشر جو جذبات سے بھری ہوئی ہیں اور مضطرب دلوں کی صدائے باز گشت معلوم ہوتی ہے ان میں درد واثر کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے ملا عبدالسلام کے کلام کے مطالعہ سے ہم انسان کی عظمت اس کی قوت شوکت اور نظام کائنات میں اسکی حثیت سے متاثر ہوتے ہیں غرض کہ ملا صاب کی شاعری بھی حیات پرورہے اپکی شاعری میں بھی خودی عمل اور عشق موجود ہے ملا سلام کے تمام نظریات عصر حاضر کے ذہنی اور سماجی حالات سے ملتے ہیں ملا سلام کی شاعری میں ایک وژن ہے تعلیم اور فلسفے کی طرح رغبت ہے ملا سلام کے جتنے بھی تصانیف ہیں اور اس میں جتنے بھی اشعار اور جتنے بھی نظریہ اور عقیدے ہیں ان میں رنج وراحت کا بیان بھی ہے انسوں کیساتھ تو سکراہٹ بھی ہے طلب کا وش بھی ہے اور غم وعشق کے جستجو اور فکر روزگار سے گریز بھی لطافت نزاکت ٹھنڈی ہوائیں اور کالئ گھٹاوں کا جلوہ بھی غرض قاضی ملا سلام ایک ماہر فنکار کی طرح اپنی تصویروں کے خدوخال پیش کرتے صاف اور سلیس ہے افسوس کہنا پڑتا ہے کہ ان بے شمار خوبیوں کے علاوہ بھی نہ حکومت وقت نہ آپکو اور آپکے پیغامات (Messages ) کوئی اہمیت دی ہے نہ میڈیا والوں نے نہ تو سرکار نے اپ کے نام پر کوئی اکیڈمی بنانے کی سعی کی ہے اور نہ عوام نے اپکے پیغامات پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے اب بھی ہمارے پاس وقت ہیں ہم اب بھی اپ کے نام پر ادارے کھول سکتے ہیں
ملا عبدالسلام اچکزئی کی روح اب بھی ہماری راہ دیکھ رہی ہے یہ لوگ کب جاگ جائیں گے اور یہ مسلمان پشتون ملت کب اپنے اپکو پہچان لیں گے یہ ابھی حکومت وقت کی ذمداری ہے کہ وہ کس ماہر ادیب سے فکر ملاسلام بابا اور کلام ملا سلام کا اردو ۔ فارسی ۔ اور انگریزی وغرہ میں ترجمہ کر کے نہ صرف پاکستان افغانستان ایران بلکہ ایشاء اور یورپ میں پھلائے حکومت وقت کو چائے کہ وہ ملا سلام کے نظریہ اور عقیدے ہر واقعی تحقیق کرے انکے محترم التمام نام پر کئی اکیڈمیاں اور دوسرے ادارے تعمیر کر کے انکو اور انکے پیغام کو آگے لانے کی ازحد کوشش کرے ساتھ ساتھ حکومت وقت کی یہ ذمداری بھی بنتی ہے کہ وہ اپکے اشعار آپکے اقوال ویفام کو قومی نصاب تعلیم میں بھی شامل کرےاور مختلف گزرگاہوں اور روڈوں (Roads ) پر اپکا نام بھی رکھنے کی کوشش کرے میں اس تحریر کی توسُط سے پشتون بلوچ صوبہ کے گورنر اور وزہراعلی سے نہایت التماس کرتا ہوں کہ وہ میری گزارشوں کو عملی جامہ پہنائیں کیونکہ مرحوم ملا عبدالسلام اس خطے کا ایک نمائیند شاعر ہے اور آپکی شاعری نے بھی ہماری ایک حد تک رہنمائی بھی کی ہیں اور نمایندگی بھی کی ہیں کیونکہ یہ سچ ہے کہ کسی معاشرے کی بنیادی سچاہوں اور اس کے تُمدن کے خدوخال کی اجماعی شکل دیکھنا ہو تو وہ اسکی نمائندہ شاعری میں ملے گی ہر دور اور ہر ملک میں نمائندہ شعری ادب اُس دور اور اس ملک کی روح کا آئنہ رہا ہے
خیر وہ ملا عبداسلام بابا جو سنہ 1300 ہجری مطابق سنہ 1879 کو پیدا ہوئے تھے وہ آخرکار 26 جنوری 1974 عسیوی کو دارفانی سے داربقا کوچ کر گئے اور شاخہ درہ پڈہ میں سپردک خاک کرگے.
اناللہ واناالللہ راجعون
بقول ڈاکٹر علامہ اقبال ( اسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے )
( سبزہ نورستہ اس گھر کی ناگہانی کرے )
اپ کے چند اشعار کے ترجمے درجہ ذیل ہیں
1) ترجمہ ۔۔ رت کے وقت دل کے چراغ بغر کوئی چل پھر نہیں سکتا یہ تو قبر کی طرح یہ دنیا بھی بہت تاریک ہے
2) ترجمہ ۔۔ الہئی یہ بندگی تو شرمندگی بن گئی ہے اے اللہ میں گونگا بے ثنا آپ کے پاس پہنچا
3) ترجمہ ۔۔ خدا بھی بندگی میں خالص نقد اخلاص قبول کرتا ہے یوسف تو فرض لے کر کوئی نہیں خرید سکتا
4) ترجمہ ۔۔۔ ہزاروں سالوں کا دوست بھی بیگانہ ہوتا ہے یہ تو دنیا کے بخت سے حیا بھی کوچ کرگئ
5) ترجمہ ۔۔ اگر اپ نے طلب کیا تو یہ پھر جاگ جایئگی غازی امان اللہ کی قیمت ایک بار پھر
6) ترجمہ ۔۔ غازی امان اللہ خان ہماری تاریخ میں اچھے تھے لیکن ہم نے انہں بہت کم سنا
7) ترجمہ ۔۔۔ جس نے پشتوں کو کافروں سے نجات دلایا میں عبدالسلام واقعی انکو سُنوں گا
 ترجمہ ۔۔۔ کیا اپ نے شیطان کے قصے کو بھول دیا اپ پھر بھی غرور وتکبر سے ہاتھ نہیں اٹھاسکتے ہو
9) ترجمہ ۔۔۔ انگریزوں نے پٹھانی عورتوں کو بے حیا کیا میرا کہنا تو اپ لوگوں پر بہت گران گزرتا ہے
10) ترجمہ ۔۔ زمانے کا ہوشیار تو صرف اخبار پڑھتا ہے ہر گدھا تو بدعتی علوم پر کان رکھتا ہے
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Protected contents!